سندھ میں کیا ہورہا ہے؟مراد شاہ کی کارکردگی کا پول کھل گیا


کراچی( 24نیوز ) سندھ پیپلز پارٹی کا اقتدار کا صوبہ سمجھا جاتا ہے،سوائے مارشل لاءدور کے یہاں اسی پارٹی کی حکومت رہی ہے،سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے جانے کے بعد قدرے جوان جانشین سید مراد علی شاہ سے عوام کو بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں لیکن یہ سب دم توڑ گئیں ہیں،رہا سہا کارکردگی کا پول عدالت نے کھول دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کول اتھارٹی میں بڑے پیمانے پرگھپلوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان سے استفسار کیا کہ پتہ ہے پورے ملک میں سندھ کے بارے میں کیا تاثر ہے، کیا ہم بتائیں آپ کے بارے میں اسلام آباد میں بیٹھ کرکیا کچھ سننے کوملتا ہے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ سندھ میں ہوکیا رہا ہے؟ تھر میں بھوک سے بچے مر رہے ہیں، کھانے کو کچھ نہیں، تھرمیں تعلیم ہے نہ کھانے کو کچھ، 10,15 ارب کہاں گئے، کس کے اکاونٹ میں گئے، کچھ پتہ نہیں،جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار لگارکھا ہے، اتنا پیسہ سندھ کے عوام پر لگ جاتا تو سندھ کی حالت بدل جاتی، بتایا جائے یہ پیسہ کس کے اکاونٹ میں گیا؟ کیا سمجھتے ہیں ہمیں کوئی علم نہیں، باقی صوبوں میں 50 فیصد لگ بھی جاتا ہوگا مگر یہاں سب لوٹ لیا جاتا ہے

۔

 یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کا مینٹل ہسپتال دورہ، بھارتی خاتون کی موجودگی کا نوٹس

عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا معاملہ نیب کو بھیج دیں؟ آپ خود اپنے صوبے کے لیے کیا کررہے ہیں؟ تھر کا سینہ چیر کر کوئلہ نکال کر انہیں مزید تباہ کررہے ہیں، سندھ حکومت ہر چیز پر آنکھیں بند کررہی ہے، سندھ میں اتنے بڑے بڑے ڈاکے اچھے نہیں۔ تھر میں تعلیم ہے نہ کھانے کو کچھ، باقی صوبوں میں 50 فیصد لگ بھی جاتا ہوگا مگر سندھ میں سب لوٹ لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکیوں کی مدد کرنیوالا شکیل آفریدی غائب

جسٹس گلزار نے کہا کہ یہ کریشن کا سد باب ہمارا کام ہے؟ ایگزیکٹو کہاں ہے؟ ہمیں کن کاموں میں الجھا دیا؟عدالت نے سندھ کول اتھارٹی میں بےضابطگیوں کامکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایک ماہ میں بتایا جائے پیسہ کہاں گیا؟ بتایا جائے کتنے منصوبے بنائے گئے اور کتنی رقوم جاری ہوئیں؟ بتایا جائے کس منصوبے پر کیا پیش رفت ہوئی۔