بیگم کلثوم نواز۔ ۔ ۔ آمریت کیخلاف اور جمہوریت کے حق میں ایک موثر آواز

غزل جاوید

بیگم کلثوم نواز۔ ۔ ۔ آمریت کیخلاف اور جمہوریت کے حق میں ایک موثر آواز


11ستمبر 2018 کی آغازدوپہر لندن کے ہارلے کلینک میں غیر معمولی ہیجان کا نتیجہ بیگم کلثوم نواز کی موت کی خبر کی صورت نکلا۔یوں ملک کے تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف سے ان کی شریک حیات کا 48سالہ ساتھ چھوٹ گیا۔ بدقسمتی سے بیگم کلثوم نواز اپنے آخری وقت میں اپنے مجازی خدا اور جان نچھاور کرنے والی بیٹی کی قربت سے محروم رہیں۔سابق وزیراعظم اور مریم نواز کو تین بار کی خاتون اول کے انتقال کی خبراڈیالہ جیل میں سنائی گئی، جس نے قید و بند کی صعوبتوں کو دوچند کردیا۔

سیاست کے میدان کارزار کی آزمائش ہو یا خاندانی معاملات پر فہم وفراست سے لبریز کسی اہم فیصلے کی گھڑی بیگم کلثوم نواز باؤجی کے ہمراہ اِک عزم مصمم کے ساتھ کھڑی رہیں ۔ ایک وفا شعار بیوی،خوبصورت ماں، آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنے والی کہنہ مشق خاتون سیاستدان کا شاید یہی ایک بہترین تعارف ہے۔اللہ ا نہیں غریقِ رحمت کرے(آمین)۔

بیگم کلثوم نواز ے نے۱۹۷۰ء کوگورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین کوپر روڈ سے ایف اے کیا اور پھر فارویمن کرسچین کالج سے اردو ادب میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے بھی کیا، ان کی شادی 12پریل 1971 میاں نواز شریف سے ہوئی یوں انہیں عزت احترام اور محبت کرنے والے شوہر کا 48 سالہ ساتھ نصیب رہا۔

پاکستانی سیاست میں خواتین کے کردار سے متعلق بات کی جائے تو سب اہم شخصیت مادرِملت"محترمہ فاطمہ جناح"کا نام سر فہرست ہے۔جنھوں نے اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کیساتھ شانہ بشانہ وطن آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ بعد ازاں والد کےعدالتی قتل کے بعد سیاست کے میدان پرخارمیں قدم رکھنے والی بینظیر بھٹو جنھوں نے اوئل جوانی میں ہی قید وبند کی صعوبتیں برداشت اور دو بار وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچیں ۔ محترمہ خطرات کے باوجودپرویزی آمریت کو چیلنج کرنے پاکستان پہنچی اور پھر راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر دہشتگرد حملے کا نشانہ بنیں۔ اس فہرست میں تیسرا نام محترمہ کلثوم نواز کا ہے۔ بدقسمتی سے آج یہ تینوں باوقار خواتین ہم میں نہیں ہیں۔

محترمہ کلثوم نواز کا ملکی سیاست میں کردار 12 اکتو1999 کی بغاوت کے بعد سامنے آیا۔ محترمہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے اڈیالہ جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی باگ دوڑ سنبھالی اور کٹھن حالات میں بہترین حکمت عملی اور جرات و بہادری کے سہارے پارٹی کو سیاسی انتشار سے محفوظ رکھتے ہوئے اس وقت سیاست کے پل صراط سے بآسانی گزار۔ یہ سب پی ایم ہاؤس میں میاں نواز شریف سمیت شہباز شریف اور حسین نواز کی گرفتاری کے بعد ہوا ۔ مگراس سے پہلے ہی نواز شریف فوجی حکام کو استعفیٰ دینے سے انکار کرچکے تھے۔گردو پیش کی ساری صورتحال اور خطرات کے بغورجائزے کے بعد بیگم صاحبہ نے پختہ عزم کرلیاکہ اب وقت آگیاکہ عوام کوحقیقت سے آشنا کرایا جائے۔لہذا پابندِسلاسل شوہر کی رہائی کی تحریک چلانے کیلئے بیگم صاحبہ نے جلسے جلوسوں کاشیڈول ترتیب دیا ۔

مسلم لیگ( ن) کی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے بیگم کلثوم نواز نے ایک موقع پر آمرانہ حکومت کوللکارتے ہوئے کہا کہ سن لو! ریٹائرڈجنرل صاحب آپکو کارگل آپریشن پر کمیشن بناناہی ہوگا۔یہ 1971 نہیں2000 ہے۔کارگل کے شہداء کاخون رائیگاں نہیں جانے دیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سپوت سر پر کفن باندھ کرگئے تھے لیکن تم نے انہیں میدانِ جنگ میں بےیارومددگار چھوڑدیے گئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے میرے تقریبا500 سے زائد سپوت اوربیٹوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ملک وقوم کی سالمیت کومحفوظ رکھااوراللہ سے کیاگیا وعدہ نبھایا۔شہید کی جوموت ہے قوم کی حیات ہے۔مزید کہاکہ اس بارہمارے نوجوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ میں عوام کی جانب سے قرارداد پیش کررہی ہوں کہ مشرف!کارگل پرکمیشن بناؤاورحقائق سامنے لاؤ۔میں ان شہیدوں کی ماؤں اوربیواؤں اور یتیموں کی صدا بن کرتمھارے سامنے کھڑی ہوں جن کے باپ،بھائی اور بیٹے تمھاری ناپختہ سوچ اور ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں شہید ہوئے۔تم ان لوگوں کے انجام سے سبق سیکھو،حیدرعلی اور ٹیپو سلطان کانام تو قیامت تک زندہ رہے گامگر ان سے غداری کرنیوالوں کا انجام آج تاریخ کے اوراق میں ایک عبرت کے نشان کے طور پر ہے۔

محترمہ نے نہایت تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی تقاریرمیں خود ساختہ حکومت کو مخاطب کرتے وقت ایسے الفاظ کاچناؤ کیاکہ کوئی بھی عقل سمجھ رکھنے والا یہ نہیں کہ سکتاتھاکہ یہ اُس پابندِسلاسل کی بیوی ہے جوایک مخصوص عرصہ تک چاردیواری میں رہی اورانتہائی مشکل حالات میں بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ بیگم کلثوم نواز نے مزید کہا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ کوئی بھی سرکش انتقامِ قدرت سے بھاگ نہیں سکتا۔پاکستان کا مطلب کیا؟"لاالہ الااللہ" اور یہ ملک اسی بنیاد پرحاصل کیاگیا اوریہ ہی ہماری بنیاد ہے اور ہم اسی بنیاد کے پرُستارہیں۔آج میری پاک فوج کا جذبہ بھی اسی بنیاد سے سرشارہے اوراگراسی بنیادپررہا تو دُنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور ہم پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گئے۔کلثوم نواز نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے عوام کواپناگرویدہ بنالیا اور انہیں یہ بآوارکروانا چاہا کہ ملک وقوم کی خاطراگرجان کا نذرانہ بھی دینا پڑاتودریغ نہیں کریں گئے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ انہوں نے بجٹ کیخلاف بھی سب سے پہلی آوازِ حق بھی بلند کی.  بیگم کلثوم نواز کی جراٗت مندی اور سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے وائس آف امریکہ نے بھی ان کے بارے میں کہا کہ کلثوم نواز نے خود کو مایہ ناز مسز ہیلری کلنٹن کی طرح ایک سرکردہ خاتون ثابت کردکھایا.  انہوں نے پاکستان کی سیاست میں خود کو ایک ماہر،مدبراورعالمی ہوش و بصیرت رکھنے والی عظیم خاتون،قومی رہنما کے طور پرمحض چند ماہ کے اندراُبھارا۔امریکی سفارتی حلقے ہی نہیں بلکہ برطانوی دولتِ مشترکہ،یورپ،سارک ممالک اورجمہوری ممالک کی عالمی پارلیمانی برادری نے پاکستان میں محترمہ کلثوم نوازکو فوجی حکومت اورخود ساختہ حکمران پرویزمشرف کیخلاف حزب مخالف کا کردارتن تنہا ادا کرنے والی بہادرخاتون قرار دیا۔

ملک میں پرویزی آمریت کے دوران بیگم کلثوم نواز نے عوام پر صورتحال کی سنگینی کو رفتہ رفتہ اجاگرکیا اور سیاسی حلقوں کو یہ بآورکردیا کہ پاک فوج نہیں صرف مٹھی بھر سازشی عناصر نے جمہوریت اورآئینی نظام کاخاتمہ کیا۔کلثوم نواز نے نہ صرف سیاسی حلقوں کو بآورکروایا بلکہ عدلیہ جوملک کا سب سے مضبوط ترین ادارے کو بھی ادب سے درخواست کی کہ "ملک بچاؤ تحریک"قوم تمھارے ساتھ ہے اور نازک موڑ پرہمیشہ کی طرح اپنا قومی فریضہ سرانجام دیں۔کیونکہ اس وقت ملک کی سالمیت اوراسلام خطرے میں ہے۔اسلیئے ہم متحد ہوکر خود ساختہ حکومت کو یہ بتانا چاہیتے ہیں کہ کسی کوبھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کوئی بھی آکرمنتخب شدہ حکومت پرشبِ خون مارے اور خود ساختہ حکمران بن جائے۔

بیگم کلثوم نواز نے اپنے پابندِسلاسل شوہر کی بے گناہی ثابت کرنے کی انتھک کوشیش کیں اور کہاکہ نواز شریف نے بھارت کو نہ صرف مسلہِ کشمیر پر بات کرنے پرمجبور کیا بلکہ واجپائی کوبس پربیٹھا کر مینارِپاکستان کے سائے تلے کھڑا کرکے پاکستان اور اسکی ایٹمی طاقت کو تسلیم کروایا۔

کلثوم نواز نے ایک اور موقع پر کہا حکمران کاروانِ تحفظِ پاکستان کو روک کر اپنے خلاف اٹھنے والےعوامی سیلاب کو حکمران نہیں روک سکتے۔لفظ تحفطِ پاکستان پر زوردیرہی ہوں کیونکہ میری جدوجہد صرف اور صرف اپنے وطن کیخلاف ہونے والی ناپاک سازشوں کے آگے بندھ باندھنا ہے۔میں بہت جلد حکومت کوایک بار پھر بھر پورسرپرائز دوں گی۔ بلاشبہ آمریت کیخلاف اور جمہوریت کے حق میں ایک نہتی خاتون کی طاقت سے بھرپور آواز نے پرویزی آمریت کی چولیں ہلا ڈالیں ۔

2017میں بیگم صاحبہ کو گلے کے سرطان کی تشخیص ہونے کے بعد علاج کی غرض سے لندن کے" ہارلے اسٹریٹ کلینک" لندن منتقل کیاگیا۔ یکم ستمبر 2017 کو انکے گلے کی کامیاب سرجری ہوئی۔تیسری سرجری بیس ستمبر 2017 کو ہوئی۔ اسکے بعد انکی طبیعت میں بہتری آتی گئی لیکن جون 2018ء میں دورہِ قلب کی وجہ سے طبیعت انتہائی ناساز ہوئی توانہیں مصنوعی سانسیں دی جانے لگیں۔ مگر موت سے کسے فرار ہے ؟ تین ماہ انتہائی نگہداشت کے باوجود محترمہ کلثوم نوا زگیارہ ستمبر 2018 کو صبح گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر لندن کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگیئں۔ یوں 72 سالہ تاریخ میں خواتین کی جانب سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے گاہے بگاہے اٹھنے والی ایک اور موثر آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی۔

نوٹ: 24 نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں.