خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے دعوے دھرے رہ گئے ،معذور افراد در بدر

خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے دعوے دھرے رہ گئے ،معذور افراد در بدر


پشاور(24نیوز) خیبرپختونخوا میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، صوبے کے معذور افراد حقوق حاصل کرنے کیلئے در بدر خاک بسر ہیں، مخصوص افراد اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے آئے احتجاج اور مظاہرے کرنے پر مجبور ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ ان کیلئے تعلیمی اداروں میں داخلے اور ملازمتوں میں کوٹہ مختص کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے جسمانی معذور افراد آج بھی اپنے حقوق کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،قانون سازی کا وعدہ تبدیلی والی سرکار نے ساڑھے چار سالوں میں بھی ایفا نہ کیا جس کے باعث خصوصی افراد اپنے جائز حقوق اور تحفظ کے لئے آئے دن سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

محکمہ سماجی بہبود کے مطابق قانونی مسودہ 8ماہ قبل تیار کر لیا گیا ہے اور مذکورہ محکمہ کا قلمدان خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے تاہم حکومتی ترجیحات مختلف ہونے کے باعث اسے ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق 35لاکھ سے زائد جسمانی معذور افراد موجود ہیں جو تعلیمی اداروں میں داخلوں اور سرکاری اداروں میں نوکریوں کے کوٹہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم یہ مطالبہ سننے کیلئے پی ٹی آئی کے پاس شاید وقت کی کمی ہے۔