گردے نکالنا بہت بڑا ناسور ہے، دھندے میں ملوث کالی بھیڑیں ہیں: چیف جسٹس


اسلام آباد (24نیوز) سپریم کورٹ میں گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ گردے نکالنابہت بڑا ناسور ہے۔

سپریم کورٹ میں گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ اس ناسورکے خاتمے کیلئے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں؟ اس دھندے میں ملوث لوگ کالی بھیڑیں ہیں،ان کا کہنا تھا کہ 10 مارچ کو کراچی میں مقدمات کی سماعت کرنی ہے، ڈاکٹر ادیب رضوی بھی ہماری معاونت کریں۔

دوران سماعت ڈاکٹر نقی ظفر نے کہا کہ ان معاملات کوروکنے کیلئے قومی اورمقامی سطح پرکوئی اتھارٹی نہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قومی سطح پراتھارٹی نہ ہولیکن مقامی سطح پرہونی چاہئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پنجاب اورکے پی میں اتھارٹی موجود ہے،وفاقی اورصوبائی سطح پرموجوداتھارٹیز بااختیارنہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بنانے کیلئے مجبورنہیں،کمی کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔