افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرلیا

افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرلیا


کابل(24نیوز)افعانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں بالآخرطالبان کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا گیا،چند دن پہلے افغان عسکریت پسندوں نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اور سخت امریکی پالیسی کے احکامات کے بعد طالبان کے افغان شہروں اور قصبوں میں کیے گئے حالیہ حملوں کے باعث شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

اشرف غنی نے کابل میں ایک علاقائی کانفرنس کے دوران امن مذاکرات کا طریقہ کار بتایا جو ان کے بقول ملک میں امن لائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق افغان صدر کا کہنا تھا ’جنگ بندی ہونی چاہیے اور طالبان کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اعتماد سازی کا عمل شروع ہونا چاہیے،انھوں کے طالبان قیدیوں کی رہائی کی بھی پیش کش کی۔

افغان صدر نے ماضی میں دیے گئے ایسے ہی بیانات کا اعادہ کرتے ہوئے طالبان سے کہا کہ ’اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اسے قبول کریں اور ملک میں استحکام لے کر آئیں، اس پیشکش کے جواب میں عسکریت پسندوں کو افغانستان کی حکومت اور آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ نکتہ ماضی میں امن مذاکرات کی کوششوں کا لازی جزو رہا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو طالبان نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کہ ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ 16 سال سے جاری جنگ کا حل نکالا جا سکے،تاہم اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ آیا مذاکرات افغان حکومت کے ساتھ بھی ہوں گے یا نہیں۔ اگرچہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغان حکومت کا اس عمل میں شامل ہونا لازمی ہے۔

افغانستان امن کانفرنس کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے جں میں 25 ممالک شریک ہیں۔ اس کانفرنس میں انسدادِ دہشت گردی اور تنازعات کے حل کے لیے لائحہِ عمل پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے