انتظار قتل کیس: عینی شاہد مدیحہ کیانی گرفتار، ماہ رُخ کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ


کراچی (24 نیوز) انتظارقتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ جس میں قتل کے واقعہ کی عینی شاہد مدیحہ کیانی کو پولیس نے حراست میں لے لیا گیا۔

قبل ازیں واردات کے وقت انتظار کے ساتھ موجود مدیحہ کیانی نے مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد سے ملاقات کی اور کیس سے متعلق آنکھوں دیکھا حال بتایا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹریفک پولیس افسر پر وکیل کا تشدد، وزیرِ داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا

مدیحہ کیانی نے بتایا کہ انتظار احمد کے ماہ رخ کے ساتھ تعلقات تھے جو ماہ رخ کے والد کو پسند نہ تھے۔ اس ہی لیے انتظار کا منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ اپنی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے مدیحہ کیانی کا کہنا تھا کہ جان کو خطرات لاحق ہیں جس وجہ سے میڈیا کے سامنے نہیں آتی تھی۔ ماہ رخ کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے تاکہ کیس کی گتھیاں سلجھیں۔

مزید پڑھئے: نقیب اللہ ماورائے عدالت قتل کیس میں ایک اور گرفتاری

انتطار احمد کے والد کا کہنا تھا کہ امریکہ سے ماہ رخ کے والد سہیل حمید نے دھمکی آمیز کالز کیں، جو پولیس افسر عامر حمید کا بھائی ہے۔

ذرائع کے مطابق مدیحہ کیانی کے بیان کے بعد کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سی ٹی ڈی نے انتظار احمد کے والد کے مطالبہ پر ماہ رخ اور اس کے چچا کو شاملِ تفتیش کیوں نہ کیا؟ انتظار کے والد اسے کولڈ بلڈڈ مرڈر کہتے رہے۔ تاہم تفتیشی حکام کیس کی تفتیش کو طول دیتے رہے اور پیٹی بند بھائیوں کو بچانے میں لگے رہے۔