ٹینکوں کے دہانے گرم اور بارود تازہ ہے

محمد سعید رفیق

ٹینکوں کے دہانے گرم اور بارود تازہ ہے


یہ 1971نہیں 2019۔ اس بار کسی بحری بیڑے کا انتظار نہ کسی قرارداد کی منظوری کی فکر۔ بازو بھی دو نہیں ایک اور اسی پر بھروسہ و یقین ہے ، پاکستان وہ خطہ پاک سرزمین جس پر لاکھ تیر وتفنگ چلانے کے باوجود یکجہتی کا پرچاراور امن کی بھاشا ہی بولی جاتی ہے۔ ہزار فکروں میں غلطاں رہنے والی قوم کا رشتہ جان ودل ، وہ خطہ زمین جس کیلئے خون نچھاور کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ دھرتی ماں جس کیلئے ہر روز کئی جوان بیٹے خوشی خوشی جام شہادت نوش کرتے اور سرخرو ہوتے ہیں ۔70سالوں سے ہماری تلواریں زنگ آلود ہوئی ہیں نہ ہمارے ترکش خالی ، کمر مسلسل چار دہائیوں سے گھوڑے کی پیٹھ پر ۔ جدید تاریخ کی دو بڑی جنگیں ہمارے کریڈ ٹ کا حصہ ہیں ، جن میں فتح سے جہاں کچھ نقشے تبدیل ہو ئے وہیں کچھ سرحدیں بھی مستحکم ہوئیں ۔یہ سب کچھ قرطاس ابیض پر صاف صاف تحریر ہونے کے باوجود ان دو دنوں میں جو ہوا وہ غیر معمولی ہے،،،ا آخر کیوں ؟؟؟

یہ بھارت سرکار کی چھوٹی سمجھ دانی کا کمال ہے یاپھر کسی سستی بوتل کے بے سرور نشے کا چڑھا ہو ا پھیکا رنگ ، جس کی ترنگ میں بالاکوٹ کے جابہ تک پیش قدمی نے آخرکار اس کا اپنا ہی باجا بجا ڈالا ۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو طاقت پرواز سے محروم اور ذہنی بیمار عقابوں کی گوشمالی کے ساتھ ساتھ فوجی جرنیلوں ، تھنک ٹینکس کے بڑ ے ناموں والے نام نہاد ماہرین اور بانس پر چڑھانے والے ٹی وی چینلز مالکان کو بھی لائن حاضر کرنا چاہئے ۔ جنھوں نے مل ملا کرایک ازلی چائے والے کو 65میں دیکھے ایک بیہودہ خواب کی تعبیر کے نام پر سرجیکل سٹرائیک کے خمار میں مبتلا کیا اور بیچ چوراہے مرواڈالا۔ان سب نے ملکر اکھنڈ بھارت سے لیکر الیکشن 2019جیتنے تک کے تمام خواب بکھیر دیئے۔ مودی کے ان آستین کے سانپوں نے جانتے بوجھتے ایسا کیوں کیا ؟؟ اس کا جوا ب تو آنے والے وقت مل ہی جائیگا مگر کچھ تسلی آج لائن آف کنٹرول پر بھی ہو گئی۔ بھارت کو دو طیاروں کی تباہی کی صورت ملنے والا سرپرائز برنچ یقیناً بھارتی سخت گیر موقف کوساتویں آسمان سے زمین پر دے پٹخے گا۔ کیونکہ بھارتی غبارے سے پہلی بار ہوا نہیں نکلی اور جب بھی نکلی ایسا ہی ہوا اور پاکستان کی جوابی کارروائی سے بھارتی دماغ کی گرمی اسی طرح اتری۔ 1998کے ایٹمی دھماکوں سے قبل دی جانے والی دھمکیوں کے بعد بھیگی بلی بننے کی بات زیادہ پرانی نہیں۔84میں جے پور کرکٹ ڈپلومیسی کے نتیجے میں راجیو سے ملاقات میں ضیا کے ایٹمی انکشاف پر بھی پینترابدلا گیا اور صورتحال بھانپ کر بھارتی سورماو ¿ں نے مشرقی سرحد سے پسپائی اختیار کی۔

مسائل کا کوہ گراں ، حادثات اور سانحات کے ان گنت دلخراش واقعات، دشمنوں کے کھلے اور چھپےے وار، اپنوں کی سازشیں اور اغیار کی بے رخی نے کل کے نوزائدہ پاکستان کو آج کا زیرک و جہاندیدہ بنادیا ہے۔ لاکھ اختلافات کے باوجود قوم ملکی وحدت پر متفق اور متحد ہے۔ 20کروڑ سر پھروں کا بچہ بچہ تک ملک و قوم کیلئے سینہ سپر اور کٹ مرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ کمیونزم کی پسپائی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں فتح بھی ۔ مسلسل چالیس سال سے حالت جنگ میں رہنے والی قوم کا ہی کریڈٹ ہے ۔ جس نے یورپ کی گلیوں سے دریا ئے آمو کے پار تک ایک نئے دور کی شروعات کی بنیاد رکھی ۔ پاک افواج کے 6لاکھ سپاہ میں سے ایک بھی سپاہی اور افسر ایسا نہیں جس نے محاذ جنگ پر پوزیشن نہ سنبھالی ہو۔ ملک کے اندر دشمنوں کی سازشوں کا تریاق ہو یا سرحدوں پر گولیوں کی گھن گرج، فوج کے جوان اور افسر سب اسی کارزار سے گزر رہے ہیں ۔ ہماری مشاقی کی بڑی وجہ بھی بھارت ہی ہے۔ مغرب اور مشرقی سرحدوں پر مسلسل چالیں، ، اندرون ملک کلبھوشنوں سے مسلسل سازشوں نے ہی ہمیں میدان جنگ میں مشاق کیا ۔ بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ، کمانڈ انفارمیشن سینٹر سے اگلے مورچوں تک اور حقیقی سرجیکل سٹرائیک سے تاریخی پراکسی وار تک سب پاکستان ہی کا خاصہ ہے ۔ حالات کے جبر ، جنگی مصروفیتوں اور اندرون ملک تخریبی سرگرمیوں کی بیخ کنی کیلئے مسلسل سرگرمیوں نے اکیسویں صدی میں پاک فوج کو ایک انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت سے متعارف کرادیا ہے ۔ سب سے زیادہ مشقوں، جنگوں کا حصہ رہنے کے سبب آج بھی ہماری توپوں اور ٹینکوں کے دہانے گرم اور بارودو تازہ ہے ۔ شاید اسی لئے ہمیں کوئی خوف دامن گیر ہے نہ فکرلاحق، من موجی قوم کے مقابلے گاو ¿ ماتا کے پجاری اسی شانت سے یکسر محروم ہیں، اور یہی سکون و قرار ہماری جیت ہے ۔