زینب قتل کیس:صحافی کے الزامات،سپریم کورٹ نے نئی جے آئی ٹی تشکیل دیدی


لاہور (24نیوز) سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں صحافی شاہدمسعود کے الزامات پرنئی جے آئی ٹی تشکیل دیدی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شاہد مسعود کے ساتھ وہ ہوگاجو وہ سوچ بھی نہیں سکتے، چیف جسٹس اور ڈاکٹرشاہد مسعود کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں زینب قتل کیس میں ڈاکٹرشاہدمسعود کےالزامات کی سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب اور جے آئی ٹی سربراہ محمد ادریس نے رپورٹیں پیش کیں، چیف جسٹس کے استفسار پر ڈی جی فرانزک سائنس ڈاکٹراشرف طاہر نے کہاکہ جو ملزم گرفتارکیا یہی ملزم ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایاکہ بینک اکاؤنٹس جعلی ہیں۔

چیف جسٹس اور ڈاکٹرشاہد مسعود کے درمیان مکالمہ بھی ہوا, چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جوالزامات لگائے ہیں وہ ثابت بھی کرنا ہوں گے، ڈاکٹر شاہد بولے کہ پھرمیں چلا جاتا ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو جانے نہیں دوگا, نام ای سی ایل میں ڈال سکتاہوں، صحافی بولے کہ مجھے کتنا وقت دیں گے، چیف جسٹس بولے کہ ہم رات آٹھ بجے تک بیٹھے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کے اکاونٹس کےثبوت نہیں ملے، شاہدمسعود بولے یہ جھوٹ بول رہے ہیں, چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ الزامات درست ہوئے تو آپ ٹاپ کےصحافی ہوں گے، غلط ہوئےتوآپکےساتھ وہ کچھ ہوگاجوآپ سوچ نہیں سکتے۔

عدالت نے الزامات کی چھان بین کے لئے نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا۔ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن کی سربراہی میں جے آئی ٹی کام کریگی۔پہلی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی کام کرتی رہے گی۔