کپتان کو کیا کیا مشکلات پیش آئینگی؟

04:28 PM, 28 Jul, 2018

لاہور(ویب ڈیسک) جمہوریت تمام خامیوں کے باوجود ایک بہترین سیاسی نظام ہے،اس نظام کے ذریعے عام آدمی کو اپنا نمائندہ چننے کا موقع ملتا ہے،تمام تحفظات،خدشات کے باوجود میرے ملک میں تیرہویں انتخابات میں ووٹ کے ذریعے ووٹرز نے اپنے نمائندے منتخب کیے ہیں،آج سے 44سال قبل پہلی وکٹ لینے والا کرکٹر دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت،دنیا کے دوسرے بڑے اسلامی ملک کا حکمران بننے جارہا ہے،22سالہ سیاسی جدوجہد پر عوام نے اعتما د کیا اور حکمران بنا کر ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے،1992میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے والا کپتان عوام کے دل جیتنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے؟ووٹرز کی امنگوں پر کتنا پورا اترتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا-

یہ بھی پڑھیں: ”اب پتہ چلے گا حکومت کیا ہوتی ہے؟“
کپتان کی حکومت تشکیل پانے سے پہلے ہی بڑے بڑے چیلنجز ان کا ستقبال کرنے کیلئے بانہیں پھیلا ئے کھڑے ہیں،پہلا چیلنج اچھی ٹیم کا انتخاب ہے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بہترین افراد کی ضرورت ہے،اگر ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت بناتے ہیں تو یہاں بہترین سربراہ کی ضرورت پڑے گی،ان کو یہاں سابق وزیر اعلیٰ کی ٹکر کا بندہ چاہئے جو کارکردگی اور قابلیت دونوں میں نمبرون ہو،جو کچھ ڈلیور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو جس کے پاس حکومت کرنے کا تجربہ بھی ہو،پنجاب میں پی ٹی آئی کو ضرور حکومت بنانی چاہئیے وگرنہ وفاق میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،پنجاب ایک بڑا صوبہ،ملکی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ یہیں سے جاتا ہے،جو یہاں کامیاب ہوتا ہے وفاق میں بھی وہی کچھ ڈلیور کرپاتا ہے،پی ٹی آئی کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں کا موازنہ ضرور کرنا چاہئے۔

پڑھنا مت بھولیں:  سندھ کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟پیپلز پارٹی نے فیصلہ کرلیا
دوسرابڑا چیلنج ملکی معیشت،جاری کھاتوں کی ادائیگیاں ہیں،کاروبار حکومت چلانے کیلئے فوری رقم چاہئے،معاشی اتار چڑھاﺅ پر پر نظر رکھنے والے اداروں موڈیز،بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کو فوری دس سے پندرہ کروڑ ڈالر کی ضرورت پڑے گی،نئی حکومت کو نہ چاہتے ہوئے آئی ایم ایف سے بھیک کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا،قرض دینے والا اپنی شرائط پر قرض دے گا ،آئی ایم ایف مشکل سے مانے گا کیونکہ کپتان اپنے ووٹروں سے ٹیکس کم کرنے،توانائی کی مصنوعات کو سستا کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں،اگر آئی ایم ایف سے قرض لیتے بھی ہیں تو یہ عوام سے کیے وعدے پر پہلی بے وفائی ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے نئی بننے والی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
تیسرا بڑا چیلنج ملک بھر میں دھاندلی کا شور ہے،اس وقت تمام جماعتیں عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کرچکی ہیں،کچھ پی ٹی آئی کے امیدواروں کا بھی کہنا ہے کہ ہمیں بھی ہرایا گیا،ایم ایم اے کی اے پی سی میں جانے والی تمام جماعتیں حلف نہ اٹھانے کی بات کررہی ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت بڑا سیاسی بحران پیدا ہوجائے گا،حلف ہوجاتا ہے حکومت تشکیل پا جاتی ہے تو پھر بھی حکومت مشکل میں ہی رہے گی کیونکہ اب کی بار بننے والی اپوزیشن مضبوط اور حکومت کمزور ہوگی،حکومت قدم قدم پر بلیک میل ہوگی،اپوزیشن ابھی سے ”تڑیاں“لگا رہی ہے”دیکھتے ہیں کیسے حکومت چلاتے ہیں“اپوزیشن جماعتیں وہ سب بھلانے کوتیار نہیں جو کپتان گزشتہ دس سال سے ہر جلسے میں کہتے آئے ہیں،یہاں ملک کیلئے بہتر یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کھلے دل سے شکست قبول کریں اور کپتان کو حکومت کرنے کا موقع دیں۔

پڑھنا مت بھولیں:  تمام پارٹیوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئیں
چو تھا بڑا چیلنج ایک کروڑ نوکریاں،اربوں کی تعداد میں درخت،نئے ڈیموں کی تعمیر،جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل ہے،مضبوط اپوزیشن کو ساتھ ملائے جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل ناممکن دکھائی دیتی ہے،نئی حکومت کے پاس اتنی نمبرز ہی نہیں ہوں گے کہ آسانی سے کوئی بل پاس کرسکے۔
ان تمام چیلنجز اور مشکلات کے باوجود کپتان کا پہلا کامیاب سیاسی اوور ہے جو انہوں نے وکٹری سپیچ میں کیا ہے،انہوں نے اپنا بہترین ایجنڈاپیش کرکے اپنے سخت مخالفین کو رام کرلیا ہے،اپنی خارجہ پالیسی کے نکات پیش کرکے امریکہ،برطانیہ،چین اور حتیٰ کہ بھارت میں سفارتی کامیابی حاصل کرلی ہے،ہمارے ملک کیلئے اس سے بڑی بات کیا ہوگی کہ ہمارے متوقع حکمران کی تقریر کو دنیا بھر میں براہ راست دکھایا گیا،بھارتی میڈیا کے تمام تر منفی پراپیگنڈے کے باوجود سرحد پار سے مثبت اشارے مل رہے،اب بھارتی عوام بھی اپنی حکومت کو پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کیلئے دباﺅ ڈال رہے ہیں،کوچ کوئی بھی ہولیکن کپتان نے پہلے اوور میں نپی تلی باﺅلنگ کرائی ہے،کپتان کو اس وقت بہترین خارجہ امور کی ٹیم تشکیل دینی چاہئے،اس معاملے میں نیشنل سکیورٹی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،پاک فوج کی مشاورت سے خارجہ ٹیم اور پالیسی تشکیل دینی چاہئے کیونکہ اس کے بغیر کوئی پالیسی نہیں چل سکتی اور نہ چلنے دی جائے گی،وزرات خارجہ کیلئے شاہ محمود قریشی کا نام لیا جارہا جن کے پاس اس وزارت کا تجربہ بھی ہے لیکن یہاں ہوشمندی کی ضرورت ہے چھکے اور چوکوں کی نہیں،حوصلہ مند اور سفارتی امور کا ماہر بندہ ہی اس وقت خطے کی صورتحال کو سنبھال سکتا ہے،سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اس وزارت کیلئے بہترین چوائس ہونگے۔

مزیدخبریں