تخت لاہورکس کا؟ ن لیگ، پی ٹی آئی کی سیاسی لڑائی شدت اختیارکرگئی

تخت لاہورکس کا؟ ن لیگ، پی ٹی آئی کی سیاسی لڑائی شدت اختیارکرگئی


  24نیوز : پنجاب میں حکومت کس کی ہوگی؟   تخت لاہور کے لئے ن لیگ اور تحریک انصاف کی سیاسی لڑائی شدت اختیارکرگئی جبکہ پیپلز پارٹی کا کردار کنگ میکر کے طور پر سامنے آنے لگا ہے۔

پنجاب میں کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے 149 نشستیں درکار ہیں۔ ن لیگ کو بھلے 129نشستوں کی عددی برتری حاصل ہےلیکن حکومت سازی میں پی ٹی آئی اس کی راہ کی بڑی رکاوٹ ہے۔ حمزہ شہباز جو مسلسل سیاسی رابطے کر رہے ہیں کو29آزاد ارکان میں سے14 کی حمایت ملتی ہے۔  فنکشنل لیگ اور پاکستان عوام راج کا ایک ایک ووٹ بھی وہ حاصل کرتے ہیں تو پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کا ووٹ بینک 145 ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی جمہوری رواداری برقرار رکھنےمیں سب پر سبقت لےگئی 

دوسری جانب پی ٹی آئی کےچودھری سرور، شفقت محمود اورعبدالعلیم خان کی تمام تر توجہ پنجاب پر ہے اور آزاد ارکان کو رام کرنے میں مصروف ہیں۔  پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستیں 123 ہیں، اس کے ساتھ 15آزاد ارکان کے علاوہ  ق لیگ کے 7 ایم پی اے بھی ملتے ہیں تو تحریک انصاف کے کل ووٹ 145 ہوجائیں گے۔ اس نمبرگیم میں پیپلز پارٹی کا کردار کنگ میکرکا ہوجائے گا۔

 پنجاب اسمبلی میں اس کی چھ نشستیں ہیں اوریہ چھ ووٹ جس پارٹی کی طرف جائیں گے اقتدار کا ہما اسی کے سر پر بیٹھےگا۔