ایف اے ٹی ایف:پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا

ایف اے ٹی ایف:پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا


پیرس( 24نیوز ) پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے ، اس اقدام کے پاکستانی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو واچ لسٹ پر ڈالنے سے پاکستان سے ہونے والی ہر ٹرانزکشن کو اور بھی زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا ،یعنی جب بھی کوئی پاکستانی بینک، دنیا میں کسی پاکستانی کے لئے کوئی رقم منتقل کرنا چاہے گا تو اس حوالے سے پہلے سے پوری تفصیلات بتا دینے پر بھی مزید سوالات کا سامنا کرنے پڑے گے،،یہ کیوں؟ کس کے لئے؟ کیسے؟ کہاں سے؟ والے سوالات جو ایئر پورٹ پر پوچھے جاتے تھے اب بینکوں میں اور انداز میں پوچھے جائیں گے۔
پاکستان کا نام گرے لسٹ پر ہونے سے پاکستان کے لئے عالمی مارکیٹ کی رسائی اور مشکل ہوگی،دنیا بھر میں ٹریڈنگ کرنے کے لئے،، ایل سی ،، یعنی لیٹر آف کریڈٹ کھلوانا اور مہنگا ہوتا جائے گا ، اور یوں باہر سے آنے والا مال مہنگا ہوجائے گا اور پاکستان سے مال باہر بھیجنا مشکل ہوجائے گا،دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر سے قرضہ لینا اور بھی مشکل ہوجائے گا جس کے بغیر پاکستان کا گزارا مشکل ہے۔ ہمارا شمار اس لسٹ میں ہوگا جس میں شمالی کوریا ، ایران ، عراق ، شام ، یمن اور ایتھوپیا وغیرہ شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: 7اسلامی ملکوں کے شہریوں کی امریکہ داخلہ پر پابندی
پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی قیادت میں وفد نے پاکستان کا موقف پیش کیا، ڈاکٹر شمشاد اختر نے اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور کالعدم تنظیموں اور دیگر گروہوں کے خلاف کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
پاکستانی حکام کا موقف تھا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پہلے سے موجود قوانین میں بہتری لانے کے ساتھ سا تھ ان پر عملدرآمد بھی بہتر طریقے سے یقینی بنایا گیا ہے،اس حوالے سے نگران وزیر داخلہ اعظم خان کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف امریکا اور بھارت کے دباو میں ہے اور دونوں ملکوں نےترکی، سعودی عرب اور چین پر بھی دباو ڈالا۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو تادیبی اقدامات کرنے کے لیے 3 ماہ (جون تک) کا وقت دیا تھا،خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا لیکن اس حوالے سے بچت ہوگئی ہے۔