”اب ایسا نہیں ہوگا“وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد چیف جسٹس بول پڑے


اسلام آباد( 24نیوز ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو جلد انصاف کی فراہمی کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہائی کروائی ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کے لیے بغیر پروٹوکول کے سپریم کورٹ پہنچے جہاں جسٹس ثاقب نثار نے ججز گیٹ پر ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اہم امور پربات چیت کی گئی۔
چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ہوئی، وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کے ذریعے ملاقات کی درخواست کی جب کہ ملاقات میں وزیراعظم نے چیف جسٹس کو جلد انصاف کی فراہمی کیلئے مکمل تعاون اور فوری اور سستا انصاف کیلئےعدلیہ کو تمام وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے چیف جسٹس کے عوامی مفاد کے مقدمات پر بھی مکمل تعاون، نجی میڈیکل کالجز کی تشکیل نو اور ماحولیات کے تحفظ پر بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی جب کہ تعلیم ، عوامی صحت اور اسپتالوں کے معاملے پر چیف جسٹس کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔


اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے وزیراعظم کو عدلیہ کے آئینی کردار کو بغیر خوف اور قانون کے مطابق ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جب کہ وزیراعظم نے ایف بی آر اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو مقدمہ بازی کے باعث درپیش مسائل سے آگاہ کیا جس پر چیف جسٹس نے معاملے کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی یقین دہانی کروائی۔ وزیراعظم نے چیف جسٹس کو سی سی آئی اجلاس میں پانی کی فراہمی سے متعلق پالیسی کی منظوری سے بھی آگاہ کیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاقی اسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پمز اور دیگر ہسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کی سمری کابینہ کو دوبارہ بھیجی جائے گی، عدالتی احکامات پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔

 یہ بھی ضرور پڑھیئے:اسحاق ڈار ایک بار پھر فرد جرم سے بچ گئے
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انشاءاللہ اب کوئی سمری نہیں رکے گی، وزیراعظم سے کل کی ملاقات کے بعد معاملات میں تیزی سے پیش رفت ہو گی، سیکرٹری کیڈ ہسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کے سلسلے میں ہمیں مثبت پیش رفت چاہیے، اگر پیش رفت نہ ہوئی توسربراہان کے طور پر اچھے لوگوں کی تقرری خود کریں گے، اس کے بعد مستقل تقرری آئندہ حکومت کرلے گی۔
درخواست گزار ڈاکٹر نے کہا کہ انتظامی عہدوں پر بھی ڈاکٹروں کو لگا دیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال سے صحت کے شعبے کے سیکرٹری سمیت انتظامی معاملات پر ڈاکٹرز ہی ہونے چاہئیں، حکومت کو کام کرنے دیں، بعد میں دیکھیں گے اچھے لوگ لگائے گئے کہ نہیں۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔