پاکستانی خواجہ سرا،کہیں خوشی کہیں غم

پاکستانی خواجہ سرا،کہیں خوشی کہیں غم


لاہور( 24نیوز ) پاکستان دینا کا واحد ملک ہے جو مختلف حوالوں سے ریکارڈ بنا رہا ہے،حال ہی میں پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی چینل کوہ نور نیوز نے ایک خواجہ سرا کو نیوز کاسٹر کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ٹی وی چینل کے اس اقدام کو کافی سراہا جا رہا ہے،لاہور سے تعلق رکھنے والی ماویہ ملک نے گریجویشن کر رکھی ہے اور انھیں حال ہی میں کوہ نور نیوز کے دوبارہ لانچ کے لیے نیوز کاسٹر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
ماویہ ملک پہلی بار نیوز کاسٹر کے طور پر ٹی وی پر آئی ہیں لیکن وہ شو بزنس میں نئی نہیں ہیں،اس سے قبل وہ ماڈلنگ بھی کر چکی ہیں اور کئی فیشن شوز میں بڑی بڑی ماڈلز کے ساتھ ماڈلنگ کر چکی ہیں،اسی طرح ایک خواجہ سرا زارا ہوٹلنگ کا کورس کرکے دبئی میں اچھا روزگار کما رہا ہے،یہ بھی ایک پاکستانی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں حال ہی میں کی گئی مردم شماری کے مطابق ملک میں خواجہ سراوں کی کل تعداد 10 ہزار چار سو اٹھارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔وزیر اعظم،چیف جسٹس کی ملاقات کے بعد پاک فوج کا بڑا اعلان
یہ نہیں کہ خواجہ سراﺅں کیلئے پاکستان میں سب اچھا ہے، ان کو جہاں معاشرے میں دھتکارا جاتا ہے وہیں اکثر کو جان بھی گنوانا پڑی،گزشتہ روز پشاورکے علاقےرنگ پرنامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے خواجہ سرا دانیال عرف چٹکی کو ایک شخص کے ساتھ قتل کردیا،فائرنگ تھانہ پہاڑی پورہ کی حدودمیں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اس وقت کی جب خواجہ سرا دانیال عرف چھٹکی اورساتھی اعجاز رکشے میں سوارتھے،ملزمان فائرنگ کرنے کے بعد فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔دانیال کا تعلق ضلع لکی مروت سے ہے۔پشاورمیں کسی قسم کا رہائش نہیں۔پولیس حکام کےمطابق معلوم کیاجارہاہے کہ خواجہ سرا پشاورکس لئے آیا۔دانیال کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیاہے اس کے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔دانیال کو 12اوراعجاز کو سات گولیاں لگی ہیں،ابتدائی طورپررکشہ ڈرائیورسے پوچھ گچھ کی گئی ہے،ملزمان کی گرفتاری کیلئے پہاڑی پورہ سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل خواجہ سرا شمع کو 9 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنا،شمع پشاور میں خواجہ سراوں کے حقوق کے لئے کام کرنی والی تنظیم ٹرانس ایکشن کمیٹی کی ممبر ہیں، خواجہ سرا شمع نے جنسی تشدد کے واقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ میں اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لئے آواز بلند کروں، مجھے پہلے بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں،مگر خواجہ سرا آرزو پر ہونے والے تشدد اور سنی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج میں شرکت کے بعد مجھے عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔
یا د رہے 2015سے آج تک خیبرپختونخوا میں 55خواجہ سراوں کو قتل کیاگیا،کسی ایک ملزم کو سزانہیں ہوئی اسلئے خواجہ سراوں کو باآسانی قتل کیاجارہاہے خیبرپختونخواخواجہ سراوں کیلئے مشکل صوبہ بن گیا،پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے،ملزم گرفتارنہ ہوئے تو سڑکوں پرنکل آئیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے ایوان بالا میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے حال ہی میں ملک میں بسنے والی تیسری صنف یعنی خواجہ سرا کمیونٹی کے تحفظ کا ایک بِل پاس کیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ بل جلد ہی ایوان سے پاس ہو کر قانونی کی شکل اختیار کرے گا۔