چیف جسٹس اپنا کام کریں، نواز شریف کا مشورہ


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکے بیان پر جرح ہوئی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں،سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپر جرح شروع کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'کیا آپ نے ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق نواز شریف کی ملکیت کی کوئی دستاویزات پیش کیں۔جس پر انہوں نے کہا کہ 'نہیں ایسی دستاویزات ہمارے پاس نہیں اور نہ پیش کیں'، ایون فیلڈ پراپرٹیز، نیلسن اور نیسکول کی ملکیت تھیں،خواجہ حارث نے سوال کیا ' نواز شریف ایون فیلڈ پراپرٹیز کے بینیفیشل اونر ہیں، ایسی کوئی دستاویز پیش کی جس پر واجد ضیاءنے کہا کہ ایسی دستاویزات پیش نہیں کیں جن سے ثابت ہو نواز شریف بینی فیشل اونر ہیں،خواجہ حارث نے سوال کیا 'کوئی ایسی دستاویزات کہ ماضی میں کبھی نواز شریف ان کمپنیوں کے بینیفیشل اونر تھے' جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔
خواجہ حارث نے ایک اور سوال کیا کہ 'ایف آئی اے اور بی وی آئی نے کوئی دستاویزات دی تھیں کہ نواز شریف ان کمپنیوں کے بینی فیشل اونر تھے' جس کا جواب بھی انہوں نے یہی دیا کہ ایسی کوئی دستاویزات نہیں ملیں۔' جس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ درست ہے کہ یہ غیر سرکاری مگر رجسٹرڈ فرم ہے۔
واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے موزیک فونسیکا سے براہ راست کوئی خط و کتابت نہیں کی، موزیک فونسیکا پرائیویٹ لا فرم تھی اور ہم نے براہ راست بی وی آئی اٹارنی جنرل آفس سے خط و کتابت کی۔
یاد رہے کہ موزیک فونسیکا وہی لاءفرم ہے جس نے جزیرہ پاناما میں مختلف ممالک کی اہم شخصیات کی ا?ف شور کمپنیوں سے متعلق انکشافات کیے تھے،سربراہ جے آ?ئی ٹی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ نواز شریف گلف اسٹیل کے مالک یا شئیر ہولڈر ہوں تاہم جے آئی ٹی کے سامنے صرف طارق شفیع نے کہا کہ گلف اسٹیل کا شئیر ہولڈر شریف خاندان ہے اور کسی گواہ نے نہیں کہا کہ نواز شریف گلف اسٹیل کے مالک یا شئیر ہولڈر ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء نے اپنا بیان قلمبند کرایا تھا اور بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت آج دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کی تھی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس وہ کام نہیں کریں جو ان کا نہیں اور انہوں نے از خود نوٹسز لے کر حکومت کا کام اپنے قبضہ میں کرلیا۔
کیس کی سماعت ختم ہونے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی ملاقات پر کچھ نہیں کہہ سکتا، چیف جسٹس کے اسپتالوں کا دورہ کا ٹارگٹ شاید ہم تھے، پارلیمنٹ کا کردار بھی دوسرے ہاتھوں میں چلا گیا ہے،سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشنوں نے حکومت کا کردار اپنے قابو میں کر لیا ہے، چیف جسٹس جو کرنا ہے کریں، لیکن 18 لاکھ مقدمات کا بھی کچھ کریں، چیف جسٹس اس طرف توجہ دیں جو ان کا کام ہے، وہ کام نہ کریں جو ان کا نہیں، شہری انصاف کے منتظر ہیں، اس طرف توجہ دیں۔
نواز شریف نے کہا کہ میرے خلاف کیس ایک فراڈ ہے جو میرے اور اہل خانہ کے ساتھ ہورہا ہے، بیوی بیمار ہے مجھے نہیں جانے دیا جارہا، آج ایک ایک کرکے حقائق سامنے آئے ہیں، ثابت ہوگیا جو کچھ ہورہا ہے سیاسی ہے، واجد ضیاءنے آج ہمیں سرخرو کردیا، ہمارے خلاف الزامات کو دھودیا، یہ کیس ایک فراڈ ہے جو میرے اور فیملی کے ساتھ ہورہا ہے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کیس کے پیچھے بہت سے قوتیں ہیں، کیس میں سے کچھ نہیں نکل رہا تو مخالفین کو شرمندگی ہونی چاہیے، اب اگر مجھے ہر صورت سزا دینی ہی ہے تو میرا نام کوٹیکنا، حج اسیکنڈل ،ای او بی آئی کرپشن کیس میں ڈال دیں، یہ تماشا زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔

 یہ بھی ضرور پڑھیئے:”اب ایسا نہیں ہوگا“وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد چیف جسٹس بول پڑے
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل سے بھاگنے والے نہیں، آج حقائق سامنے آ گئے ہیں، ہمارے خلاف جس نے بھی مقدمہ دائر کیا ان کو شرمندگی ہونی چاہیے، عدالت میں فراڈ ثابت ہوتا جا رہا ہے، اس مقدمے میں سزا نہیں دی جا سکتی، مقدمہ منطقی انجام تک پہنچ رہا ہے، اللہ تعالیٰ سرخرو کر رہاہے، کیس کے تمام گواہان کے بیانات ہمارے حق میں جارہے ہیں، جو تماشا لگا ہے، زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔

مزید دیکھئے اس ویڈیو میں: