پاکستان فوج کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیں: آصف غفور


راولپنڈی (24نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور پر یس کانفرنس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا  کہ پی ایس ایل فائنل میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ایسے گونجا جیسے اس کا حق تھا،عوام نے خوف کو شکست دی ۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ  ملکی اور سرحدی صورتحال پر بات کروں گا۔ انہوں نےکہا کہ 23مارچ کو اسلام آباد میں شاندار پریڈ کا انعقاد ہوا۔ لاہور میں پی ایس ایل کے پلے آف میچز اور کراچی میں فائنل کا شاندا ر انعقاد ہوا۔ پریڈکےلئے اسلام آبادپولیس اوردیگراداروں کاشکرگزارہوں،کراچی میں فائنل میں پاکستان زندہ بادکانعرہ لگتارہا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے ،خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے، اگر مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو آج شاید امریکا خطے کی سپر پاور نہ ہوتا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت میں ہمارے سفارتکاروں کےساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ہماری امن کی خواہش بھارت کو ہماری کمزوری نہیں سمجھنی چاہیے۔ غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کا کردار نہ ہوتا تو خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا، بھارت کو بھی ہمارا شکریہ اداکرنا چاہیے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے 2017 میں  ایل او سی  پر سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں، اگر بھارت باز نہ آیو تو بھرپور جواب دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ غیرمستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں، پاکستان کے لئے سب سے پہلا چیلنج سی پیک ہے۔سی پیک سے پورا خطہ مستفید ہوگا اور اس کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں، پاکستان کا خطے میں امن کا کردار مثبت انداز میں دیکھا جانا چاہیے، چاہتے ہیں کہ پاکستان کی کامیابیوں سے دوسرے ممالک بھی مستفید ہوں اور پاکستان کیساتھ مثبت انداز میں چلیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان فوج کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیں۔ آرمی چیف سے اینکرز کی ملاقات آف دی ریکارڈ تھی ۔بغیر ثبوت کے چھپ کر ملاقات اور این آر او کا تاثر دیا گیا۔شہباز شریف صوبے کے وزیر اعلی ہیں، میٹنگ پر اعتراض نہیں۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ آج کا کراچی 2013 کے کراچی سے بالکل مختلف ہے ۔شہر بھر میں شٹر ڈاؤن کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔آپریشن ردالفساد میں ابھی تک 26 بڑے آپریشنز ہوئے، آپریشن ردالفساد ایک مشکل آپریشن تھا۔