کراچی؛ کھلے مین ہولز اور نالے موت کے گڑھے بن گئے


 کراچی(24نیوز) کراچی میں کھلے مین ہولز اور نالوں میں گرنے سے بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری، گذشتہ سال سے اب تک 13 بچے ندی نالوں کی نذر ہوچکے ہیں۔

 24 نیوز کے مطابق کراچی انتظامیہ کے دعوے فقط دعوے ہی رہ گئے۔ گذشتہ سال اور اس سال کراچی کے ندی نالوں میں بچوں کے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔ 13معصوم جانیں ان گندی ندی نالوں کی نذر ہوگئی۔

گجر نالہ، لیاری ندی، کورنگی اور ملیر ندی سمیت منگوپیر نالہ میں گرنے کے واقعات رونما ہوئے۔ کچی آبادیوں کے اطراف قائم نالوں میں معصوم بچوں کے گرنے کے واقعات یہاں کے مکینوں کے لیئے معمول بنتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: دودھ کی قیمتوں کا معاملہ حل

انتظامیہ ان واقعات کو نالوں پر قائم تجاوزات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ مگر اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ جب یہ تجاوزات قائم ہورہی تھیں اس وقت وہ کہاں تھی۔

دوسری طرف مکین ان حادثات کی تمام تر ذمہ درای انتظامیہ پر عائد کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کے کراچی کے ندی نالوں کے اطراف حفاظتی دیوار قائم کی جائے تاکہ ان واقعات سے بچا جاسکے۔

دوسری جانب شہداد پور میں شارٹ سرکٹ سے 15 مکان جل کر خاکستر ہوگئے۔ مویشی ، گندم ، کپڑے اور دیگر ایشیا جل گئی۔ فائر برگیڈ کا عملہ بھی موقع پر تاخیر سے پہنچا جس سے زیادہ نقصان ہوا۔