الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار


اسلام آباد(24نیوز)  الیکشن کمیشن کے ارکا ن کے تقرری کے معاملے ڈیڈ لاک کا شکا ر ہوگیا.  شہباز شریف وزیراعظم سے براہ راست مشاورت پر بضد ہیں اور وزیراعظم انکار کررہے ہیں.  آئینی پوزیشن اور اپوزیشن لیڈر کے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے سندھ اور پنجاب کے ریٹائرڈ ممبران کی تقرری پر پیش رفت نہ ہوسکی۔وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا خط اپوزیشن لیڈر کو موصول ہو گیا۔شہباز شریف نےوزیراعظم کے بجائے پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے خط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو لکھے گئے خط میں ممبر بلوچستان اور سندھ کے لئے تین تین نام تجویز کئے گئے ہیں۔بلوچستان کے لئے امان اللہ بلوچ، منیرکاکڑ اور نوید جان بلوچ کے نام جبکہ سندھ کے لئے خالد محمود صدیقی، فرخ ضیاء شیخ اور اقبال محمود کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے جواب میں اپوزیشن لیڈر کے ڈائریکٹرمحب علی پھل پوٹو نے بھی جوابی خط لکھ ڈالا جس میں کہاگیاہے وزیراعظم کی جانب سے جو نام آپ نے بھجوائے ہیں۔وہ شاہ محمود قریشی کے خط میں دئیے گئے مجوزہ ناموں سے مختلف ہیں اورخط آئینی تقاضوں کےخلاف ہے۔

آئین کے تحت الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کے لیے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت لازمی ہے۔ اسی وجہ سےشہباز شریف نے وزیر خارجہ سے مشاورت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

وزیر خارجہ نے نے آئینی پوزیشن اور اپوزیشن کے ردعمل بارے وزیر اعظم کو آگاہ کردیا ہے، شہباز شریف کا موقف ہے آئینی تقاظے پورے کیئے جائیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔