جسٹس (ر)ناصر الملک پاکستان کے ساتویں نگران وزیر اعظم نامزد


اسلام آباد(24نیوز) نگران وزیراعظم کے معاملہ پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان آج چھٹی اور آخری ملاقات ہوئی ۔دونوں رہنماؤں نے مشترکہ کانفرنس میں نگران وزیر اعظم کےلیے ناصرالملک کا نام فائنل کردیا۔نگراں وزیراعظم یکم جون کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیںگے۔ 

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ  نے نگراں وزیراعظم کے نام کے اعلان کے لیے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہوگیا ہے، کئی ہفتوں سے اس حوالے سے مشاورت کا عمل جاری تھا، اس پر فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں اور قائد حزب اختلاف کا شکرگزار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: نگران وزیر اعظم جسٹس (ر)ناصر الملک کون ہیں؟

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نگراں وزیراعظم کےلئے جسٹس (ر) ناصرالملک کے نام کا اعلان کیا۔قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام کا چناؤ مشکل کام تھا، ایسا فیصلہ ہو جو پاکستان کے عوام اور سیاسی پارٹیوں کےلئے قابل قبول ہو۔

عمران خان  ٹویٹ :

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے نگران وزیراعظم کے لئے جسٹس (ر )ناصرالملک کے نام پر اعتماد کا اظہا ر کر دیا۔  ٹوئٹر پر عمران خا ن  نے جسٹس (ر)ناصرالملک کو نگران وزیراعظم مقرر ہونے پر مبارکباد دی۔

آصف زرداری کی مبارکباد:

آصف علی زرداری نے جسٹس (ر)ناصر الملک کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمنٹ  کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔جمہوریت کے تسلسل سے پارلیمان مضبوط ہوئی ہے۔ قوم آزادانہ، منصفانہ انتخابات چاہتی ہے۔ 

ناصر الملک حلف کب اٹھائیں گے؟ 

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی۔جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔نامزد نگران وزیراعظم جسٹس ر ناصر الملک یکم جون کو حلف اٹھائینگے، صدر ممنون حسین نگران وزیراعظم سے کو دن گیارہ بجے ایوان صدر میں ان سے عہدے کا حلف لیں گے.

وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی نگران وزیر اعظم کیلئے ملاقات:

ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے خورشید شاہ کو خصوصی طور پر کراچی سے اسلام آباد بلایا  گیا تھا جس کی وجہ سے پہلے سے ہی امید کی جارہی تھی  کہ آج نام فائنل ہونے کے امکانات واضح ہیں۔ یاد رہے کہ ان دونوں کے مابین پہلے  پانچ ملاقاتیں ہوچکی تھیں لیکن نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ کیا جاسکا۔ذرائع کے مطابق نام منتخب نہ ہونے کی وجہ  نواز شریف تھے،  وہ   کسی جج یا بیوروکریٹ کو بطور نگران وزیر اعظم نہیں دیکھنا چاہتےتھے، جس کیلئے پچھلی میٹنگ میں وزیراعظم خاقان عباسی نے نواز شریف کو منانے کیلئے مہلت مانگی تھی ۔

آج دوبارہ دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات ہوئی ، ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے نام پر ڈیڈلاک ختم ہوگیا ہے، معاملے پر فیصلہ ہم سیاستدان ہی کریں گے یہ ثابت کریں گے کہ سیاستدان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں،ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی.

نگراں وزیر اعظم کیلئے حکومتی ارکان:  

نگران وزیر اعظم کیلئے ہر جماعت کی جانب سے اپنے اپنے نام پیش کیے تھے ، حکمران جماعت نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر کا انتخاب کیا تھا۔

پیپلز پارٹی امیدواران: 

 چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نگران وزیر اعظم کے لیے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے ناموں کو فائنل کیا تھا۔بلاول بھٹو زرداری اور  آصف علی زرداری نےذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام فائنل کیے تھے۔

تحریک انصاف : 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق گورنر عشرت حسین اور معروف صنعت کار عبد الرزاق داؤد کے نام دیئے تھے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے  تصدق حسین جیلانی کا بھی نام تجویز کیا گیا تھا۔

  نگران وزیر اعظم سلیکشن کا طریقہ کار: 

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کے لیے اٹھارہویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کیے گئے ہیں۔آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق کرلیں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔
قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے، اس کمیٹی میں قائدِحزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ ارکان اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے ۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی۔ یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔2013میں بھی نگران وزیراعظم کا تقرر الیکشن کمیشن کے فیصلے پرہوا۔


 

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔