سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزموں کو دی گئی سزا کالعدم قرار دیدی

سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزموں کو دی گئی سزا کالعدم قرار دیدی

کراچی (24نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزموں کو دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی، عدالت نے کیس کو ازسر نو سماعت کے لئے سیشن کورٹ بھجوا دیا.


تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے دے دیا بڑا حکم ، شاہ زیب خان قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم شاہ رخ جتوئی کی سزا کالعدم قرار دے دی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس صلاح الدین پنہور کی زیر سربراہی دو رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کی ، سماعت کے دوران کیس میں سزا پانے والے شاہ رخ جتوئی اور دیگر مجرماں کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کے انسدادہشت گردی عدالت نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ملزموں کو سزاسنائی، سزا کے وقت شاہ جتوئی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی، مقدمہ جیونائل سسٹم کے تحت چلانا چاہیے تھا، پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعواں نے عدالت کو بتایا کے مقتول شاہ زیب اور شاہ رخ کی فیملی کے ساتھ صلح ہوچکی ہے، صلح نامے کی درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے شاہ زیب قتل کیس مین دہشت گردی کی دفعات درج ہیں فریقین کے درمیان صلح کیسے ہوسکتی ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور نے مزید ریمارکس دئے کے مقدمہ میں اے ٹی سی کے دائرہ اختیار پر کارروائی کے لیے واپس ٹرائل کورٹ بھیجا سکتا ہے، فریقین کے درمیان صلح نامے کے معاملے کو بعد میں دیکھا جائے گا۔

عدالت نے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر دو ملزماں کی سزائیں کالعدم قرار دے دی اور مقدمہ کو از سر نو سماعت کے لئے سیشن عدالت بھیج دیا، جھگڑے کے دوران گولی لگنے سے قتل ہونے والے شاہ زیب خان قتل کیس کے معاملے کا اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، افتخار محمد چودھری نے ازخود نوٹس لیا تھا، جس کے بعد اے ٹی سی نے جون 2013 میں ملزم شاہ رخ جتوئی کو سزائے موت جبکہ دیگر دو ملزماں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔