پی ای ٹی اسکین ٹیسٹ کیا ہے؟

پی ای ٹی اسکین ٹیسٹ کیا ہے؟


لندن(24نیوز)  میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس مزیدکم ہوگئے،  پلیٹ لیٹس کی تشخیص کیلئے پی ای ٹی اسکین ٹیسٹ آج ہوگا،  یہ پی ای ٹی اسکین ٹیسٹ ہے کیا?

سابق وزیراعظم کو لاحق مرض کی تشخیص پاکستان میں نہ ہوئی تو میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر انہیں بیرون ملک علاج کیلئے بھجوا دیا گیا  لیکن دو ہفتے بعد بھی اس بات کی تشخیص نہیں ہوسکی کہ میاں نوازشریف کو آیا مرض کیا ہے؟  اب لندن کے ڈاکٹروں نے اس پوسٹران ایمیشن ٹوموگرافی اسکین جسے عرف عام میں پی ای ٹی اسکین کہا جاتا ہے کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

پی ای ٹی اسکین ہے کیا؟  آپ کو بتاتے ہیں، پی ای ٹی اسکین کے تحت ریڈیو ٹریسر مریض کی بڑی رگ میں داخل کیا جاتا ہے،  یہ سیال مادہ 30 سے 60منٹ کے اندر مریض کے جسم میں جذب ہوجاتا ہے،  ان مریض کے اعضا یا ٹشوز کا معائنہ کرکے مرض کی تشخیص کی کوشش کی جاتی ہے۔پی ای ٹی اسکین عموماً ایک گھنٹے میں مکمل ہوجاتا ہے لیکن اگر صرف دل اور دماغ کا امراض کا معائنہ کرنا ہو تو اس کیلئے کم وقت درکار ہوتا ہے  تاہم اس ٹیسٹ کی رپورٹ آنے میں ایک سے دو ہفتے کا وقت لگ جاتا ہے۔

دوسری طرف پلیٹ لیٹس کی کمی تھرومبوسائٹو پینیا کو ظاہر کرتی ہے جس کی وجہ سے لیو کیمیا یا مدافعتی نظام کی کمزوری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بڑی وجہ ادویہ کے سائیڈ ایفیکٹس کا نتیجہ ہوتا ہے، پلیٹ لٹس کا انتہائی نچلی سطح پر آنا،مدافعتی نظام کی کمزوری اور بون میرو کا متاثر ہونا مبینہ طور پر لیو کیمیا کینسر کی نشاندہی کرتی ہیں، لیو کیمیا ہڈیوں کے اندر موجود گودے سے شروع ہوتا ہے اور خون کو متاثر کرتا ہے پھر انسانی جسم کے دوسرے اعضا تک پہنچتا ہے جس میں دل ،گردہ ،اعصابی نظام اور جگر کو متاثر کرتا ہے۔

پی ای ٹی اسکین سے پتہ چلتا ہے کہ اگر مریض کو لیوکیمیا کینسر ہے تو وہ کس اسٹیج پر ہے اور جسم میں کتنا پھیل چکا ہے؟  پی ای ٹی اسکین کے دوران مریض کے جسم کے ٹشوز کو تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس کے ٹشوز متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث چند گھنٹوں تک مریض سے حاملہ خواتین اور بچوں کو دور رکھا جاتا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔