"سٹیزن پورٹل کا افتتاح، آئندہ آنیوالے وزیراعظم کو قرضہ نہیں مانگنا پڑےگا"



اسلام آباد(24نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ کسی ملک کو قرضے نہیں مانگنے پڑیں گے.انھوں نے کہا کہ پرانے نظام کی طرح عام شہری اب سرکاری دفاترمیں دھکے نہیں کھائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادمیں وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح کرتے ہو ئےاپنے خطاب میں کہا کہ   پاکستان سیزنل پورٹل نوجوانوں نے اپنی محنت اور قابلیت کی بدولت قائم کیا جس کے تحت سزا اور جزا میں آسانی ہو گی جو نظام لایا جارہا ہے،  وہ ذہن کو بدلنے والا ہے پہلی بار سرکاری افسران سیاستدان اور وزارتیں قابل احتساب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ پرانے پاکستان میں نو آبادیاتی نظام قائم تھا جس میں لوگ دفاتر کے دھکے کھاتے تھے ، جس  کے پاس پیسہ ہوتا تھا اس کا ہر کام ہو جاتا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک پر جو قرضوں کا پہاڑ ہے وہ ہمیں وراثت میں ملا ہے،  اس نظام سے کیسے  نجات حاصل کرنی ہے اس کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری لانی ہو گی، انویسٹر تب سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہو گا جب اس کے سامنے روکاٹیں نہ ہوں۔ان کا کہناتھا کہ جو سسٹم قائم کیا گیا ہے اس میں ہر وہ انویسٹر  اپنی شکایات درج کرواسکے گا اور ان کو حل بھی کیا جائے گا، ترکی میں جو تبدیلی آئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم کے دفتر میں شکایات سیل قائم کیا گیا تھا جس سے وہاں حالات تبدیل ہوئے ہیں  اور آج ہم نے بھی یہ سیل قائم کیا ہے جس میں ہر طبقے کے لوگوں کی آواز شامل ہو گی ۔

انہوں نے بتایا کہ  اس سسٹم میں عوام کی رائے ضروری اہمیت کی حامل ہے،  شکایت کرنے والا ملک میں ہو  یا بیرون ملک، اس کی  اپنی ایک آواز ہوگی، ہم ان کا جواب دیں گے، ہمیں یہاں  بیٹھے پتہ چل جائے گا کہ کونسا ادارہ کیا کام کر رہا ہے ،  اور یہاں بھی ہر طبقے کے لوگوں کی رائے دہی کے مطابق فیصلہ کیا جا ئے گا ، اس ملک میں جو وسائل اللہ پاک نے دیے ہیں کسی دوسرے ممالک کے پاس نہیں ، ہمارا گورنس سسٹم غیر فعال تھا جس کی وجہ سے ہمیں قرضے لینے کے لئے دوسرے ممالک کے پاس جانا پڑا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اداروں کی کارگردگی پر ماہانہ رپورٹ وزیراعظم کو دی جائے گی، ماضی میں عوام کو توقع نہیں تھی کہ حکومت ان کی خدمت کر ے گی ، اس سسٹم کے تحت اوورسیز پاکستانی بھی رابطہ کر سکیں گے، ترقی یافتہ ممالک میں پالیساں عوام کی ضرورت کے مطابق بنا ئی جاتی ہیں ، عدلیہ کے ساتھ مل کر نئی اصلاحات سازی کر رہے ہیں جس میں ایک سال میں سارے سول کیسز ختم ہوں گے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ابھی مزید خوشخبریاں آئیں گی اس کے علاوہ ہمیں بغیر کسی شرط سے سعودی عرب سے پیکج ملا ہے، آئندہ آنیوالے وزیراعظم کو کسی ملک سے قرضہ نہیں لینا پڑے گا، اس وقت ملکی ترقی کی راہ میں حائل رکاٹ کرپشن ہے۔ 

وزیراعظم نے تقریر اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے کے بعد کمپلینٹ سیل کا دورہ بھی کیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔