میشا شفیع ، علی ظفر معاملہ پر اقصیٰ علی نے خاموشی توڑ دی

میشا شفیع ، علی ظفر معاملہ پر اقصیٰ علی نے خاموشی توڑ دی


 لاہور(ویب ڈیسک)خواتین کی مردوں اور مردوں سے خواتین کی جنسی ہراسگی  پوری دنیا کے لیے بڑا مسئلہ ہے البتہ کام کرنے والی ماسیوں سے لے کر شوبز انڈسٹریز  اور پولیٹیشن تک ہر قسم کی عورت جنسی ہراسگی کا شکار ہوتیں ہیں ، لیکن چونکہ شوبز انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والی عموما حسن میں عبور رکھتی ہوتی ہے اور ان کے چاہنے والے لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا بات کا بتنگڑ زیادہ بنتا ہے۔

جنسی ہراسگی کا یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ۔ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ  کی تاریخ اٹھائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت کار ہاروی وائن سٹائن پر کئی خواتین اداکاﺅں نے جنسی ہراسگی کا الزام لگایا،جن میں گوینتھ پالٹرو، اینجلینا جولی ، کارا ڈیولین، لیا سیڈاکس، روزانا آرکویٹا اور میرا سوروینو جیسی کئی شامل ہیں، یو ایس اے ٹوڈے کے ایک سروے کے مطابق فلم انڈسٹری میں 94 فیصد خواتین جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔

یوں تو ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے لیکن دور جانے کی بجائے اگر اپنے ملک کی بات کی جائے تو وہ زیادہ بہتر رہے گی۔ نامور پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع نے جب سے علی ظفر پر جنسی ہراسگی کے الزام لگائے ہیں سوشل میڈیا پر امریکن کی جانب سے شروع کی گئی تحریک می ٹو  کو پاکستانی اداکاروں نے بھی خوب اچھے سے جوائن کیا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی بوچھاڑ کردی۔جن میں میک اپ  آرٹسٹ لینا غنی،ماہم جاوید،حمنہ رضا اور ایک خاتون کے بعد کوک سٹوڈیو سے شہرت پانے والی مومنہ مستحسن بھی میدان میں آ ئیں۔ 

مشہور و معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن جو پاکستانی نوجوانوں میں خوبصورتی اور سریلی آواز کے حوالے سے کافی مشہور ہیں، انھوں نے بھی علی ظفر اور میشا شفیع کے سکینڈل کے بعد خاموشی توڑی اور کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ میشا کے ساتھ ہونے واقعہ سے بڑا ہے۔ انھوں نے مردوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اہنا جرم قبول کرتے ہوئے معافی مانگیں اور اچھے انسان بنیں۔ 

مومنہ مستحسن کے بعد بلبلے ڈرامہ کی خوبرو لڑکی خوبصورت کے کردار سے  ایکٹر عائشہ عمر نے بھی اپنے ساتھ کچھ غلط ہونے کا اشارہ دیا ہے،کہتی ہیں کہ انھیں ڈرامہ انڈسٹری میں کئی بار اس سنگین جرم کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور کی ایک خاتون لیکچرار ماہم جاوید نے  علی ظفر  پر الزام لگایا کہ کئی سال قبل گلوکار نے زبردستی ان کی کزن کے قریب آنے کی کوشش کی اور اسے اپنے ساتھ ریسٹ روم میں لے جانا چاہا لیکن ان کی کزن کی دوستوں نے ایسا ہونے نہ دیا۔ایک خاتون بلاگر حمنہ رضا نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر الزام عائد کیا کہ ایک تقریب کے دوران  علی ظفر  نے سیلفی لیتے ہوئے ان سے غیر اخلاقی حرکت کی تھی۔

یوں تو ایسے کئی واقعات پر نظع دوڑائی جاسکتی ہے لیکن بات بہت لمبی ہوجائے گی ۔ آئیے میشا شفیع کے بیانات کے بعد علی ظفر نے کونسا بڑا قدم اٹھایا اس پر نطر دوڑا لیتے ہیں۔ علی ظفر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا اور میدان میں آتے ہوئے میشا شفیع کو قانونی نوٹس بھیجتے ہوئے میشا شفیع کو معافی مانگنے کا کہا اور 10 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔ 

یوں تو کئی اداکاروں اور گلاکاروں کی جانب سے علی ظفر کی حمایت کی گئی لیکن اقصی علی جو جیم سیشن میں ان کی ساتھی تھیں وہ میدان میں آگئیں اور سنسنی خیز انکشافات کر ڈالے۔

انھوں نے کہا میشا شفیع جس جیم سیشن کی بات کررہی ہیں جہاں وہ دونوں اپنی پرفارمنس کی پریکٹس کررہے تھے، میں بھی وہیں موجود تھی۔ انھوں نے اپنی انسٹاگرام پر علی ظفر کی حمایت کرتے ہوئے کہا  کہ جیم سیشن میں مجھ سمیت میشا کے مینجر اور پورا بورڈ موجود تھا لیکن اس طرح کی کوئی حرکت علی ظف کی جانب سے نہیں کی گئی جو میشا بیان کررہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ   علی   ظفر بہت اچھے انسان ہیں، میں ان کے ساتھ کئی بار سفر بھی کرچکی ہوں، اور مجھے ان کے ساتھ کبھی پریشانی نہیں ہوئی،  وہ تمام خواتین سکی عزت کرتے ہیں۔