چیف جسٹس چھٹی کے دن بھی ان ایکشن،سفارش پر داماد کی سرزنش

چیف جسٹس چھٹی کے دن بھی ان ایکشن،سفارش پر داماد کی سرزنش


24نیوز: چیف جسٹس آف پاکستان نے چیف انفارمیشن کمشنرکی عدم تقرری کانوٹس لےلیا، سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت، چیف جسٹس کےحکم پر لیگی رہنما طلحہ برکی سپریم کورٹ لاہوررجسٹری پیش۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے چیف انفارمیشن کمشنرکی عدم تقرری کانوٹس لےلیا۔چیف سیکرٹری کومیرٹ پرچیف انفارمیشن کمشنرکی تقرری کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے شہری کی درخواست پرازخود نوٹس لیا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دامادسے سفارش کرانے پرچیف جسٹس ڈی آئی جی پربرہم ہوگئے۔ چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیسے سوچ لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا۔ چیف جسٹس نےا پنے داماد خالد محمود کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے مزید کہاکس نےمشورہ دیا کہ میرے فیملی ممبر سے سفارش کروائی جاسکتی ہے۔ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگرنے عدالت سے غیرمشروط معافی مانگ لی۔ چیف جسٹس نے کہامعافی نہیں،ذرائع بتائیں جس نےسفارش کرنے کا مشورہ دیا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ کی درخواست مستردکردی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے چیف جسٹس کومخاطب کرتے ہوئے کہاہمیں آپ کی زندگی بہت عزیزہے۔آپ رش میں گاڑی سے نہ اتریں۔جس پرچیف جسٹس نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاآپ لوگ مجھے عوام دورکرناچاہتے ہیں۔مجھے پتہ ہے جتنی آپ کومجھ سے ہمدردی ہے۔ چیف جسٹس کامزید کہنا تھا مجھے عوام روکیں گے میں ان کے مسائل سنوں گا۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس کےحکم پر لیگی رہنما طلحہ برکی سپریم کورٹ لاہوررجسٹری پیش۔ بہت چرچے سنے ہیں۔لوگوں کے کام کیوں نہیں ہو رہے۔ کیا آپ وزیراعلیٰ کے کزن ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔دادرسی کیلئے وزیراعلیٰ نے کیا کیا۔ وزیراعلیٰ کی تصویر کےبغیر شہرخموشاں کی تشہیر کی جائے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کر دی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر پمسٹ یونیورسٹی کےطلبہ نےاحتجاج کیا۔طلبہ کاکہناتھا ایچ ای سی کی جانب سےڈگریوں کی تصدیق نہیں کی جارہی۔ڈگریوں کی تصدیق نہ ہونے سے مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈگریوں کی تصدیق کا حکم دیں۔

 واضح رہے کہ  سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں پاکستان کڈنی اینڈلیورانسٹی ٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں کےازخودنوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے وہاں15،15لاکھ پرڈاکٹرزبھرتی کئےگئےہیں۔چیف سیکریٹری سے استفسارکیا کڈنی انسٹی ٹیوٹ کاسربراہ کون ہے۔چیف سیکریٹری نے بتایاڈاکٹرسعید پی کے ایل آئی کے سربراہ ہیں۔وہ عمرہ پرگئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاسناہے ڈاکٹرسعیدکی اہلیہ بھی وہاں تعینات ہیں۔ چیف جسٹس نے کڈنی اینڈ لیورانسٹی ٹیوٹ کی تمام تفصیلات طلب کرلیں۔