ملک کی حفاظت کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر



راولپنڈی(24نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور  نے کہا ہے کہ حکومت اور اداروں نے تمام مدارس کو وزارت تعلیم کو دینے کا فیصلہ کیا ہے،اس بات پر تمام علما بھی متفق ہیں،پی ٹی ایم کو این ڈی ایس،بھارتی را سے فنڈز مل رہے ہیں،ملک کی سکیورٹی اہم ہے اس کیلئے جو بھی کرنا پڑا کرینگے،بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرنے پر میڈیا کا شکریہ۔میڈیا پاکستان کا سب سے طاقتور ستون ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا ہے کہ بریفنگ کا مقصد ملک کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرنا ہے،بھارت میں ان گنت جھوٹ بولا جارہا ہے،ان کے جھوٹ کی کوئی حد نہیں ہے،بھارت کو جواب دیا پاکستان پلوامہ حملے میں ملوث نہیں،بھارت نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی،پاکستان نے 2 بھارتی طیارے مارگرائے جسے پوری دنیا نے دیکھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے ابھی ہم نے اپنے پائلٹس کو آنر دینی ہے،مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں،بھارت نے ایک ٹارگٹ کیلئے 4 مزائل گرائے ،ہم نے 4 ٹارگٹس کیلئے 6 میزائل فائر کیے۔

ویڈیو دیکھیں:

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت الیکشن کا ماحول ہے،پاکستان کی آباد ی نوجوانوں نے نائن الیون نہیں دیکھا،ان کے ذہنوں نے میں مختلف سوالات ہیں،60 اور 70کی دہائی میں پاکستان کے حالات بہت اچھے تھے،اس کے بات ایسے حالات ہوئے جنہیں آج بھی ہم محسوس کرتے ہیں،پاکستان آزاد ہوا تو مسئلہ کشمیر ہمیں ساتھ ملا،کشمیر کے ساتھ ہمارا نظریے کا تعلق ہے،کشمیر ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے،ہر پاکستانی نوجوان سمجھتا ہے کہ ہم نے کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔خطے میں انٹر نیشنل پراکسی چل رہی ہے۔

ہم بھارت کے رویے میں تبدیلی لاچکے ہیں:میجر جنرل آصف غفور

انہوں نے کہا کہ 71میں پاکستانی میڈیا ہوتا تو بھارت کی سازش کو بے نقاب کرتا،ہم بھارت کے رویے میں تبدیلی لاچکے ہیں،سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں نے بھارت کے پروپیگنڈا کا بھرپور دفاع کیا،میڈیا،سیاسی قیادت اور پوری قوم کا شکریہ کہ انہوں نے بھارتی سازشوں کو بے نقاب کیا۔میڈیا پاکستان کا سب سے طاقتور ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کا فیصلہ دبائو میں نہیں کیا بلکہ بہت پہلے اس کا فیصلہ کرلیا تھا،فیصلہ پر عملداری میں تاخیر فنانس ایشوز کی وجہ سے ہوئی،افغانستان کے معاملات کا پاکستان پر اثر پڑا،کالعدم تنظیموں کے 95 فیصد افراد پرتشدد نہیں،صرف 5 فیصد لوگ ایسے ہیں،ان تنظیموں کے سکول،مدرسے ہیں جس پر حکومت کنٹرول حاصل کررہی ہے۔ان تنظمیوں کی فنڈنگ روکنے کیلئے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام اداروں کو مین سٹریم میں لایا جائے تاکہ یہ نوجوان ملک کیلئے خدمات سرانجام دے سکیں،تمام مدارس کو ایجوکیشن منسٹری کے تحت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،علما کے ساتھ میٹنگ میں طے ہوا ہے کہ دینی تعلیم اسی طرح جاری رہے گی لیکن نفرت کی تعلیم نہیں دی جائے گی،آرمی چیف کا کہنا ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہ اور کسی کے مسلک کو چھیڑنا نہیں۔

پی ٹی ایم کے مطالبات،ڈی جی آئی ایس پی آر کے سوالات

سی پیک ایسٹ اور ویسٹ کو لنک کرنے کیلئے ہے یہ بات بھارت کو سمجھ نہیں آرہی،اس میں شامل ہونے کیلئے بھارت کو تنازعات حل کرنا ہونگے۔

انہوں نے پی ٹی ایم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پی ٹی ایم بنی تو آرمی چیف نے مجھے کہا کہ ان سے بات کریں،میں نے ان سے بات کی،آرمی چیف نے ہدایت کی تھی کہ یہ سخت بات بھی کریں تو ان سے نرمی سے پیش آئیں،میری محسن داوڑ سے ملاقات ہوئی ہے،انہوں نے تین مطالبات پیش کیے،ان میں ایک مائنز ہٹانے کا تھا،45فیصد علاقے کو کلئیر کردیا ہے،مزید کام جاری ہے،مائنز کو ہٹانے میں پاک فوج اور عام افراد کانقصان بھی ہوا۔دوسری ڈیمانڈ چیک پوسٹوں کا ہے،کہتے ہیں دوسرے صوبوں کے فوجی ہٹائیں جائیں،یہ پاکستان کی فوج ہے ،یہاں ہرصوبے کے فوجی نے شہادت دی ہے،جب یہ شہید ہوئے تب محسن داوڑ،منظور پشتین کہاں تھے۔تیسرا مطالبہ لاپتہ افراد کا ہے،اس کا بھی حل نکال رہے ہیں۔

پی ٹی ایم والے بتائیں ان کو این ڈی ایس،را سے کتنے پیسے آرہے ہیں سائٹ پر یہ بھی لگائیں،را،این ڈی ایس،بھارتی سفارتخانے سے ان کو پاکستان میں دھرنوں کیلئے پیسے دئیے جارہے ہیں،انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات پی ٹی ایم قیادت سے مانگے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی دہشتگرد تنظیم کا وجود نہیں ہے لیکن یہ کہنا کہ دہشتگرد موجود نہیں تو غلط ہے،اس کیلئے بہت کام کرنا ہے،سری لنکا میں حملوں میں بھارت کا نام آیا ہے،پہلے یہ ہماری طرف انگلیاں اٹھاتے تھے اب ان کی طرف اٹھ رہی ہیں۔بائی لیٹرل کوآرڈینیشن کیلئے پاک ایران سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں،ان کے ساتھ ٹی اوآر بھی طے پاچکے ہیں،یہ ٹھیک معنوں میں امن کا بارڈر بنے گا۔

پی ٹی ایم والوں سے قانونی طور پر جواب لینگے

انہوں نے حامد میر کے سوال پر جواب میں کہا کہ میں بطور ڈی جی آئی ایس پی آر میڈیا کا بہت شکر گزار ہیں،پی ٹی ایم والے جو لاپتہ افراد کی فہرست دے رہے ہیں وہ غلط ہے،اصل فہرست تو سامنے لائیں،ٹی ٹی پی،پی ٹی ایم کے حق میں بیان کیوں دیتی ہے،ریاست سے کوئی ٹکر نہیں لے سکتا،میں ایک درخواست کرتا ہوں کہ میڈیا مسائل پر گفتگو کریں اور ان کا حل بتائیں،سیاسی،عدالتی ،ملٹری ریفارم پر بات کریں اور ایکسپرٹس کو بلا کر بات کریں،پی ٹی ایم سے ہم جواب قانونی طور پر لیں گے۔ہم ہر وہ کام کرینگے جو ملک کی حفاظت کیلئے ضروری ہوگا۔یہ اپنے علاقے میں بیٹھیں،کیمپ لگائیں ہم وہاں جانے کیلئے تیار ہیں،ہم ان سے بات کرنے کیلئے تیار ہیں،ایک پارٹی ان کو سپورٹ کررہی ہے،جہاں کے مسئلے ہیں وہاں حل ہونے ہیں،65فیصد حکومت پٹھانوں کی ہے ان سے بات کریں،کیا یہ مودی سے بات کریں گے،اپنے مسائل ان کو بتائیں گے؟۔

ویڈیو دیکھیں:

اظہر تھراج

Senior Content Writer