شیخ رشید  کا ریلوے کی زمین کو  باپ کی جاگیر کہنے پرسینیٹ میں ہنگامہ

شیخ رشید  کا ریلوے کی زمین کو  باپ کی جاگیر کہنے پرسینیٹ میں ہنگامہ


اسلام آباد(24نیوز) وزیرریلوے شیخ رشید  کا ریلوے کی زمین کو  کسی کے باپ کی جاگیر کہنے پر اپوزیشن برہم ہوگئی اور  ایوان بالا سے واک آؤٹ کرلیا۔ 
سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا۔ ‏وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ‏ریلوےکاخسارہ 2013 میں 30 ارب تھا، 2018 میں 41 ارب ہے۔ ریلوے کی زمین کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، قبضہ مافیا نے ریلوے کی زمین کوباپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے.منگل کو یہ معاملہ کابینہ میں لیکر جائیں گے۔وفاقی وزیر ریلوے کے بیان پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا ۔ 

چوہدری تنویر خان نے کہاکہ لال حویلی بھی کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، لال حویلی بھی متروکہ وقف املاک کی زمین پر بنی ہے۔ اعظم موسی خیل نے کہا کہ  ہم شیخ رشید کے غیر پارلیمانی الفاظ پر واک آؤٹ کرتے ہیں، اپوزیشن ارکان نے اعظم موسی خیل کا ساتھ دیا اور اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔بعد میں مسلم لیگ ن کے سینٹر جاوید عباسی نے کورم کی نشاندہی کردی اور کہا کہ نئے پاکستان میں کورم تو پورا کر لیں۔ ڈپٹی چیئرمین نے ممبران کو پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بھجوائی لیکن کورم پورا نہ ہوا اور انہوں نے اجلاس کی کارروائی نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کردی ۔

نصف گھنٹے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سینیٹر اعظم سواتی نے عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھنے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور کہا کہ آر ایم ایس اور آر ٹی ایس کے فالٹ کا معاملہ اب الیکشن کمیشن اور نادرا ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، رضاربانی نے مطالبہ کیا آر ٹی ایس پر پورا ایوان بحث کرنا چاہتا ہے پوری بحث رکھیں،اس پر پارلیمانی کمیشن بنایا جائے کیونکہ حکومتی کمیٹی محض آنکھوں میں مٹی ڈالنے کے لئے ہے۔

اعظم سواتی کی رپورٹ پیش کرنے کے دوران سینیٹر مشاہد اللہ خان نے احتجاج کیا اوربات کرنے کی اجازت چاہی ۔ مشاہد اللہ خان کو نکتہ اعتراض پر بات نہ کرنے دینے سے اپوزیشن پھر واک آوٹ کرگئی اور کورم کی نشاندہی کی ۔ کورم پورا نہ نکلنے پر اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔