سال 2018ء میں بھی ہسپتالوں کی حالت زار نہ بدل سکی

سال 2018ء میں بھی ہسپتالوں کی حالت زار نہ بدل سکی


24نیوز : سال دو ہزار اٹھارہ میں بھی کراچی میں سرکاری ہسپتالوں کا حال سنور نہ سکا، مریضوں کو قابل ذکر طبی سہولیات میسر آسکیں اور نہ ہی صوبائی محکمہ صحت کے زیر التواء منصوبے مکمل ہوسکے۔

سال دو ہزار اٹھارہ جانے کو تیار، 2019 کو خوش آمدید کہنے کی تیاریاں جاری،  لیکن اس سال بھی محکمہ صحت سندھ کی کارکردگی میں کوئی خاص فرق نہ پڑسکا، مریضوں کو قابل ذکر صحت کی سہولیات میسر آسکیں اور نہ ہی ہسپتالوں کی حالت بدل سکی۔ سندھ گورنمنٹ ہسپتال، لیاری جنرل اسپتال، سعود آباد، نیو کراچی کورنگی، لیاقت آباد سمیت دیگر اسپتالوں میں مختلف وارڈ بند کردیئے گئے، مریضوں کو معمولی ٹیسٹس کیلئے بھی پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرنا پڑا، جبکہ بیشتر مریض سرکار کی جانب سے ادویات کے حصول میں بھی ناکام رہے۔

صوبے میں اس سال بھی پولیو کے دو کیسز رپورٹ ہوئے تاہم یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ دوسری جانب ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، ملیریا کنٹرول پروگرام فنڈز کی کمی کے باعث پورے سال غیر فعال رہا۔  ڈینگی کنٹرول پروگرام اور ہیپاٹائٹس پروگرام بھی مریضوں کو قابل ذکر طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے، شہر میں کانگو وائرس سے 17 جبکہ نگلیریا سے 2 ہلاکتیں سامنے آئیں۔

نیپا چورنگی پر زیر تعمیر چار سو بیڈز پر مشتمل جنرل ہسپتال دس سال بعد مکمل نہ ہوسکا، سندھ گورنمنٹ چلڈرن ہسپتال قیام کے ایک سال بعد بھی غیر فعال ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ ابراہیم حیدری ہسپتال عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود شفٹ نہ ہوسکا۔

شازیہ بشیر

Content Writer