2018ء،قومی ہاکی ٹیم کے حصے میں صرف رسوائیاں آئیں

2018ء،قومی ہاکی ٹیم کے حصے میں صرف رسوائیاں آئیں


کراچی( 24نیوز )دو ہزار آٹھارہ کا سورج بھی غروب ہونے کو ہے مگر قومی کھیل ہاکی رواں سال بھی اپنے دامن میں سوائے شکستوں کے اور کچھ نہ سمیٹ سکی، صورتحال بہتر تو کیا ہوتی مزید ابتر ہو گئی۔

دو ہزار اٹھارہ میں قومی ہاکی ٹیم نے کئی ایونٹس میں شرکت کی جن میں ورلڈ کپ،چمپیئنز ٹرافی ، کامن ویلتھ گیمز ۔ ایشئین گیمز شامل ہیں اور ان سب میں ایک چیز قدر مشترک ہے اور وہ ہے ہاکی ٹیم کی مسلسل ناکامی ، سوائے ایشئین چمپیئنز ٹرافی کے جس کے فائنل کے لئے پاکستان نے کوالیفائی کیا اور بارش کے باعث پاکستان اور بھارت کو مشترکہ فاتح قرار دیا گیا۔

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم نہ کوئی میچ ہاری اور نہ جیتی تمام میچز ڈرا ہوئے اور آخری میچ میں کینیڈا کو شکست دے کر ساتویں پوزیشن اپنے نام کی، ہالینڈ میں ہونے والی والی چمپیئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم نے اولمپک چیمپئن ارجنٹائین کو شکست دی لیکن پوزیشن پانچویں آئی۔

جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں پاکستان کی پوزیشن چوتھی رہی جب کے اومان میں ہونے والے تین ملکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں جاپان جیسی کمزرور ٹیم نے پاکستان کو دو کے مقابلے میں نو گول سے شکست دی،چار دفعہ کی عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے بھارت گئی تو ایک نیا ریکارڈ ضرور بنایا کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان ٹیم کوئی میچ جیت نہ سکی اور 12ویں پوزیشن حاصل کی۔

ان تمام شکستوں کی ذمہ دار پاکستان ہاکی فیڈریشن ہے جس نے کھیل کی بہتری کے بجائے سارا سال فنڈز کی کمی کا رونا روتی رہی، تو دوسری طرف کھلاڑی فیڈریشن سے ڈیلی الاﺅنس کا تقاضہ کرتے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قومی کھلاڑیوں نے ایشئین گیمزمیں شرکت سے ہی انکار کر دیا۔

قومی کھیل ہاکی کو حکومت کی طرف سے فنڈز بھی ملے مگر وہ ہاکی اور ہاکی والوں کے کام نہ آئے، قصہ مختصر قومی کھیل ہاکی میں شاندار ماضی رکھنے والا پاکستان ،دو ہزار آٹھارہ میں کوئی بھی قابل قدر کارنامہ انجام نہ دے سکی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer