"میرا امتحان شروع ہوچکا، نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا"



24نیور : الحمرامیں سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز  کےچوتھےکانوووکیشن کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ میرا امتحان شروع ہوچکا نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا ،قوم کی خدمت کیلئے3گھنٹے سےزیادہ نہیں سوتا.

تفصیلات کے مطابق الحمرا میں سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کےچوتھےکانوووکیشن کا انعقاد ہوا جس میں میاں ثاقب نثار  نےبطورمہمان خصوصی شرکت  کی ، چیف جسٹس نے اس موقع پر اساتذہ، طلبا و طالبات سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاد کی تذلیل کبھی نہیں ہونے دیں گے،کسی بھی قوم یامعاشرےکی ترقی وخوشحالی کیلئےتعلیم بنیادی درجہ رکھتی ہے،میرا امتحان شروع ہوچکا، نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا،قوم کی خدمت کیلئے3گھنٹے سےزیادہ نہیں سوتا، اپنےدورمیں ملک میں ترقی لانےکیلئےبھرپورکوشش کی۔

 میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پہلے پنجاب کےہسپتالوں میں انسی لیٹر بھی نہیں تھےسرکاری ہسپتالوں میں صاف پانی دستیاب نہیں تھا،اب پنجاب کےہر ہسپتال میں سہولیات بہتر ہوئی ہیں،آج پی آئی سی،جنرل ہسپتال میں معاملات کافی بہتر ہو گئے ہیں اس کے علاوہ چلڈرن ہسپتال سے کافی اچھی رپورٹس مل رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کے لئے زیادہ کچھ نہیں کرسکاخیبرپختونخوا حکومت کا کوئی اپنا سسٹم ہےاور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا نظام سب سے بہتر ہے۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرا کام نہیں کہ ہسپتالوں میں جاکر انتظامی معاملات میں مداخلت کروں،صحت کےسسٹم کو بہتر کرنے کےلئے ہسپتالوں کےدورےکئے، ڈاکٹرحلف پرپورااتریں توآخری میں سرخروہوں گے،کسی بھی ادارےکی ترقی اس کےاچھےسربراہ کی مرہون منت ہے، گزشتہ کچھ عرصے سےدیکھانوجوانوں میں منشیات کااستعمال بڑھ رہاہے،نفسیاتی امراض کےعلاج پرتوجہ دینےکی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیاصاف پانی کےمسئلےپرازخودنوٹس لینامیرےدائرہ اختیارمیں نہیں آتا؟ہرشخص کوزندہ رہنےکاحق ہے،طب کاشعبہ سب سےزیادہ ذمہ دارہے،کوئٹہ کے سب سے بڑے ہسپتال کا دورہ کیا وہاں کوئی الٹرساونڈ مشین تھی نہ کوئی انتظامات تھے، ڈیڑھ سے 2ہزار لوگوں نے وہاں ہڑتال کررکھی تھی، ان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا کہ "بیٹا ہڑتال ختم کردیں تو انہوں نے کہا کہ بلکل ٹھیک ہے، اور ان کا ایک ایک مطالبہ پورا کیا۔

چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم یا معاشرے کی ترقی کا رازعلم وتعلیم حاصل کرنا ہے، جتنے بھی وسائل ہیں تعلیم کے لیے مختص کرنے چاہئیں، لاکالجز کی سیٹیں کم کرنے سےمستقبل خطرے میں پڑ گیا، چیف جسٹس بنتے ہی مجھ پر بڑی ذمہ داری آئی،آج ہر بچہ ایک لاکھ21ہزار روپے کا مقروض ہے،  30سال بعدپاکستان کی آبادی45کروڑتک پہنچ جائےگی،عدلیہ نےکسی ادارےکےاندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی،اصلاح ضرورکی۔

 خطاب کے دوارن گریجویٹس ہونے والے تمام طلبہ کومبارکباد دی اور نمایاں پوزیشن ہولڈرز طلباو طالبات میں اسناد اور میڈلز میں تقسیم کئے، کانوووکیشن میں وائس چانسلرکنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعود گوندل،پرنسپل سمزپروفیسرمحمود ایاز،ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسرمسعودصادق نے شرکت کی۔

شازیہ بشیر

Content Writer