ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کر دی

ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کر دی


اسلام آباد( 24نیوز ) اصغر خان کیس میں نواز شریف ،  شہباز شریف اور جاوید ہاشمی سمیت دیگر سیاست دانوں کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کردی ہے۔

وفاقی تحقیاتی ادارے( ایف آئی اے )نے سپریم کورٹ سےاصغر خان کیس داخل دفتر کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ 25 سال پرانا ہے اور جن سیاستدانوں نے رقوم لیں، وہ اس سے انکاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے جبکہ بینکوں سے ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی نہیں ملا، کیس میں اتنے شواہد نہیں کہ کارروائی ہوسکے، لہذا اسے بند کردینا چاہیے۔ ایف آئی اے کے اس اقدام سے نواز شریف، شہباز شریف اور جاوید ہاشمی سمیت دیگر سیاست دانوں کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

اصغر خان کیس کا پسِ منظر

اصغر خان کیس کی جڑیں 1990 کی دہائی سے جاملتی ہیں، اس کیس کا پس منظر کچھ  یوں ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے کے لیے کچھ سیاسی لوگوں میں رقوم بانٹی گئیں تھیں، یہ کیس طویل مدت تک عدالت میں چلتا رہا۔ تاہم سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری نے 2012 میں اس کیس کا   فیصلہ سنایا جس کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کو قصور وار ٹھہرایا گیا کہ ان پیسوں کی تقسیم میں ان کا انفرادی عمل تھا۔ عدالت کو  جو تفصیلات مہیا کی گئیں ان کے مطابق  میاں نواز شریف، شہباز شریف، جاوید ہاشمی سمیت دیگر سیاستدانوں میں یہ رقوم بانٹیں گئیں تھیں۔ تاہم ان رقوم کی مکمل تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے رواں برس مئی میں وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس سے متعلق 2012 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا.

 جس کے بعد آج ایف آئی اے نے تمام تر کارروائی کرنے کے بعد عدالت سے کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان کے مطابق ٹرانزیکشنز کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، کیس کافی پرانا ہے اور ملزم بھی اس معاملے میں انکاری ہیں۔

واضح رہے کہ کیس سپریم کورٹ میں پیر 31 دسمبر کو سماعت کیلئے مقرر ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔