عمر قید کی سزا پر25سال جیل کاٹنا ہو گی یا تمام عمر؟

عمر قید کی سزا پر25سال جیل کاٹنا ہو گی یا تمام عمر؟


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا کی مدت کے تعین کا نوٹس لیتے ہوئےلارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےعمر قید کی سزا کی مدت کے تعین کا نوٹس لیتے ہوئےلارجر بینچ تشکیل دے دیا،عدالت نے اٹارنی جنرل، صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور پراسیکیوٹرز جنرل کو نوٹسز جاری کردیے, عدالت نے رجسٹرار آفس کو معاملہ اکتوبر کے پہلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے نوٹس ہارون الرشید بنام اسٹیٹ مقدمہ کی سماعت کے دوران لیا،وکیل ذوالفقار ملوکا کا کہناتھا کہ ہارون الرشید کو مختلف قتل کےمختلف 12 مقدمات میں 12 مرتبہ عمر قید کی سزا ہوئی،مجرم 1997سے جیل میں ہے،22 سال سزا کاٹ چکا ہے,عدالت عمر قید کی 12 سزاؤں کو ایک ساتھ شمار کرنے کا حکم دے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ غلط فہمی نہیں عمر قید کی سزا کی مدت 25 سال ہے،جب یہ پتہ نہیں زندہ کتنا رہنا ہے تو اسکو آدھا کیسے کردیں،بڑے عرصے ایسے کسی کیس کا انتظار تھا جس میں عمر قید سزا کی مدت کا فیصلہ کریں، جیل کی سزا میں دن رات شمار کیے جاتے ہیں،اس طریقے سے مجرم پانچ سال بعد باہر آجاتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہناتھا کہ بہت سی غلط فہمیوں کے درست کا وقت آگیا ہے, عمر قید سزا کی مدت کے تعین کا معاملہ عوامی اہمیت کا ہے،عدالت نے اٹارنی جنرل،صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور پراسیکیوٹرز جنرل کو نوٹسز جاری کردیے اوررجسٹرار آفس کو معاملہ اکتوبر کے پہلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔