شہباز سپیڈ میں خوار ہوتے عبداللہ!

04:01 PM, 29 Mar, 2018

Read more!

تحریر:اظہر تھراج
جب بھی الیکشن آتے ہیں ہر پاکستانی ووٹر یہ خواہش کرکے ووٹ دیتا ہے کہ اب کی بار حالات بدلیں گے،بیروزگاروں کو روزگار ملے گا،مریضوں کو صحت کی اچھی سہولیات،نوجوانوں کو بہتر تعلیم،مزدوروں کو سونے کی قیمت کے برابر اجرت ملے گی،کسانوں کو اچھا ہونے کی امید پولنگ سٹیشن تک لے آتی ہے،لیکن صورتحال مختلف ہے،ستر سال سے بھولے انسانوں کے خواب چکنا چور ہورہے ہیں،امیدیں دم توڑ رہی ہیں،خواہشیں مررہی ہیں۔
میری منطق کو اس وقت تقویت ملی جب میں پنجاب کے گورنر ہاﺅس میں تقریب میں پہنچا جہاں تقریریں کرنیوالے منہ سے موتی جھاڑ رہے تھے اور سامنے بیٹھی جسم جلی خواتین بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھیں،در اصل یہ تقریب انہی کیلئے سجائی گئی تھی ،وجہ یہی تھیں لیکن تذکرہ نواز شریف کا تھا،شہباز شریف کی ”سپیڈو“کا تھا زندہ انسانوں کی قبروں پر چلنے والی میٹروکا تھا۔شاہی محل میں بے تکی تقریریں سن کر دم گھٹنے لگا، بیزار ہوکر باہر بھاگا تو مال روڈ پر عین پنجاب اسمبلی کے سامنے روڈ بند تھا،قریب جانے پر معلوم ہوا کہ صوبہ بھر کے کسان اپنی زمینوں میں پیدا کیے جانیوالے والے آلو،سبزیاں،گنے لیے بیٹھے ہیں،وہ اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج تھے،حقیقت ہے کہ موجودہ دور حکومت میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے تو اسی طبقے کا ہوا ہے،کئی خاندانوں کو محلوں سے فٹ پاتھ پر آتے دیکھا ہے۔
اس وقت کسان کی اجناس کھیتوں میں رل رہی ہیں،سیاستدانوں کی شوگرملوں نے ان کا گنا اونے پونے خریدا،کئی کاشتکاروں کو تو کھیت میں ہی فصل جلانا پڑی،آج کل آلو کا یہ حال ہے کہ کوئی خریدار ہی نہیں مل رہا۔ابھی گندم کی کٹائی ہونیوالی ہے حالات بتا رہے ہیں کہ گندم کا دانہ دانہ ہونے کا خدشہ ہے۔
کسانوں کے دھرنے کے تھوڑے سے فاصلے پر لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی اپنا رونا رورہی تھیں،وہ اپنے واجبات کی ادائیگی،سکیل کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ کررہی ہیں،اسی اثناءمیں سوشل میڈیا پر ایک تصویر اور اس کے نیچے لکھی تحریر دیکھ کر رونا آگیا،یہ تصویر میرے دوست صحافی خالد شہزاد فاروقی کے لخت جگر عبداللہ کی تھی جو لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں ہاتھ میں ڈریپ تھامے بیڈ کے انتظار میں کھڑا ہے،ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض۔۔


اس سے بڑا واقعہ سروسز ہسپتال میں ہوا جسے سانحہ کہیں تو غلط نہ ہوگا،یہاں مسیحاﺅں اور ان کے پالتوں غنڈوں نے بہن کی ڈلیوری کیلئے آنیوالے سنیل سلیم (کانسٹیبل موٹر وے پولیس)کو مار مار کر قتل کردیا ۔معذرت کے ساتھ لینے آئے تھے جو دوائے دل جان اپنی گنو ا گئے،بے لگام ینگ ڈاکٹر ز۔بے مہار انتظامیہ چور ی بھی کرتی ہے اور سینہ زوری بھی۔آپ ہی تصور کرلیجئے اگر ایک صحافی اور پولیس والے کا یہ حال کیا گیا تو عام آدمی کی کیا زندگی ہوگی۔

ستر برس ہو گئے پاکستان بنے، اس عمر میں تو بچے نہیں ملک بھی بالغ ہوجاتے ہیں، ہم ہیں کہ وہی روش، وہی طرز حکمرانی۔کتنے ظلم کی بات ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہمارے بچے آج بھی گندگی کے ڈھیر سے روزی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ یہاں 1 دن کا بچہ ہو یا 99 سال کا بوڑھا ہر کوئی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ حکومت عوام کے نام پر انتہائی کڑی شرائط پر قرض حاصل کرتی ہے اور اس قرض سے جشن مناتی ہے۔ نوجوانواں کے پاس ڈگریاں ہیں لیکن روز گار نہیں، ہسپتال ہیں مگر سہولیات نہیں، تعلیمی ادارے ہیں مگر تعلیم نہیں۔
جناب وزیر علیٰ !سڑکوںکے جال بچھا کر ،پلو ں پر سے میٹرو ضرور گزاریں لیکن گوشت پوست کے انسانوں کو نہ روندیں، عبداللہ جیسے معصوم کو بیڈ بھی فراہم کریں،آپ کا حساب شروع ہوچکا ہے کہیں یہ طویل نہ ہوجائے،آپ کو چھینک آجائے تو جہاز لندن جانے کیلئے تیار کھڑے ہوتے ہیں عام لوگوں کے پاس سرکاری ہسپتال ہوتے ہیں انہی کو بہتر کردیجئے،کسانوں سے روٹی مت چھینئے،آپ کے طویل دور حکومت کے باوجود جنازے گندگی سے اٹھ رہے ہیں تو اس گڈگورننس،سپیڈو ترقی کیافائدہ۔

مزیدخبریں