کشمیر کیلئے پاکستان نے عالمی برادری سے بڑا مطالبہ کردیا

کشمیر کیلئے پاکستان نے عالمی برادری سے بڑا مطالبہ کردیا


اسلام آباد(24نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کرنے والے اداروں کو چند ممالک کے سیاسی مفادات کے فروغ کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے ، عالمی برادری کو کشمیر میں جاری بربریت اور ریاستی دہشتگردی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

سلامتی کونسل میں دہشت گردی کی روک تھام پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی میں غاصبانہ تسلط اور مقبوضہ علاقوں کی حق خودارادیت کے انکار سے جنم لینے والی صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہیے، ہمیں دہشت گردی کی علامات سے نہیں بلکہ وجوہات سے نبردآزما ہونے کی ضرورت ہے ۔  پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان میں قومی ایکشن پلان کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی مربوط اور جامع پالیسی بنائی گئی ہے، دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور دیگر کاروائیاں روکنے کے لیے قومی اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنایا گیا ہے۔

ادھر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کیلئے سلامتی کونسل میں  قرارداد پیش کی گئی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وہ ممالک جو اس پر عمل درآمد نہیں کریں گے، اُنھیں اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیون کا سامنا کرنا پڑے گا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر پہلی قرارداد منظور کی ہے، جس میں رکن ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی امداد کے خلاف قوانین کا نفاذ کریں۔

قرارداد میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سنگین مجرمانہ کارروائیوں کو قابل تعزیر بنانے کے لیے داخلی قوانین اور ضابطے قائم کیے جائیں تاکہ دہشت گرد گروہ یا جرائم پیشہ افراد رقوم یا مالیاتی وسائل اکٹھے نہ کر سکیں،قرارداد میں رکن ممالک سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالیاتی نوعیت کے انٹیلی جنس یونٹ تیار کیے جائیں۔

اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی پر مامور سربراہ، ولادیمیر ورونکوف نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ایک اہم موڑ پر منظور کی گئی ہے اُنھوں نے کہا کہ دہشت گرد ناجائز اور قانونی دونوں ذرائع سے نقدی تک پہنچ پاتے ہیں جس میں منشیات کی سمگلنگ، تعمیراتی تجارت اور سیکنڈ ہینڈ کاروں کی فروخت شامل ہے،اقوام متحدہ کی قرارداد رکن ملکوں پر بھی زور دیتی ہے کہ وہ اغواکاروں کو تاوان نہ ادا کریں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی ادائگیاں داعش اور دیگر گروہوں کی مالی امداد کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer