کل حکومت کا آخری دن

کل حکومت کا آخری دن


24 نیوز: قوم کو مبارک ہوکہ ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرچکی ہیں،جمہوریت کیلئے یہ ایک اچھا اشارہ ہے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی نوید بھی۔ کیا اچھا ہوگا کہ ہم ماضی کا احتساب کر لیں تو ہمارے لیے حال اور مستقبل آسان ہوجائے گا، ایسا کرنے سے انسان کیلئے اپنی راہ متعین کرنے اور منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوتی ہے،یہی حال ملکوں اور قوموں کا بھی ہوتا ہے جو قومیں اپنے گزرے کل کا احتساب کرتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں،اگر ہم یہ فارمولا اپنے ملک پر کرلیں تو سب کو مات دے سکتے ہیں،اپنے ہمسائے دشمنوں کو اپنے رشک کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں لیکن افسوس کہ جمہوریت کیلئے ہمارا ماضی کوئی خوشگوار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نوازشریف نامزد نگران وزیر اعظم کے معترف

آج سے پانچ سال قبل 11 مئی 2013 ءکو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے، جس کے نتیجے میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اورپختونخوا ملی عوامی پارٹی نے مل کر حکومت بنائی، جب کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے مخلوط حکومت بنائی۔ 2013 ءمیں منتخب ہونے والے سابق وزیر اعظم نوازشریف، وزیر خارجہ خواجہ آصف،پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین سمیت 50 سے زائد ارکان اپنی نشستوں سے محروم ہوئے یا انتقال کر گئے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 100 کے قریب ضمنی انتخابات ہوئے اور 100سے زائد ارکان اب تک اپنی جماعتوں سے باغی ہوچکے ہیں، تاہم فلور کراسنگ میں صرف ایک رکن کو نااہل کیا گیا جو پختوخواہ ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تبدیل ہوئے مگر ضمنی انتخابات کے بعد پھر اسپیکر بنے اور درمیانی عرصے میں کوئی دوسرا اسپیکر نہیں بنا۔

یہ بھی پڑھیں:  ناانصافی کیخلاف کھڑا ہونے پر مقدمہ بنایا گیا:مریم نواز
بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے تقریباً تمام ارکان باغی ہوئے۔ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں پر 5 سال میں 3 وزرائے اعلیٰ بنے، جن میں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ، مسلم لیگ (ن) کے نواب ثناءاللہ زہری اور مسلم لیگ (ق) کے عبد القدوس بزنجو۔ بلوچستان میں قائد حزب اختلاف بھی تبدیل ہوئے، پہلے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع اور بعد میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال اس عہدے پر فائز ہوئے۔ سندھ میں دو وزرائے اعلیٰ بنے جن میں سید قائم علی شاہ اور سید مراد علی شاہ شامل ہیں، دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ سید قائم علی شاہ 2016 ء میں مستعفی ہوئے اور سید مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ بنے۔

ملک کی جمہوری تاریخ نہایت ہی تلخ ہے،آج تک کوئی بھی شاید ایسا وزیر اعظم ہو جو اپنی مدت پوری کرسکا ہو،مشرف دور میں تین وزیر اعظم بنے تو ،پیپلز پارٹی کے دور میں پہلے یوسف رضا گیلانی تو بعد میں راجہ پرویز اشرف اسی طرح حالیہ حکومت میں پہلے نواز شریف تو اب شاہد خاقان وزیر اعظم ہیں،آگے بھی شاید ایسا ہوتا رہے کیونکہ منتخب کوئی کرتا ہے تو حکومتیں کوئی اور بناتے ہیں،اگر مستقبل میں بھی ایسا ہی ہونا ہے تو وزیر اعظم کا ٹنیور ہی کم کردیا جائے تین نہیں تو چار سال ہی کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اتنی جلدی بیزار نہ ہو اس طرح ملک سازشوں سے بھی بچ سکتا ہے اور جمہوریت بھی پروان چڑھ سکتی ہے۔