ایسے گاؤں جہاں بچے تو ہیں مائیں نہیں 

ایسے گاؤں جہاں بچے تو ہیں مائیں نہیں 


جکارتہ (ویب ڈیسک)ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ،ماں کے قدموں تلے جنت ہے،یہ وہ مشہورکہاوتیں ہیں جو ہم ہرزبان سے سنتے ہیں لیکن دنیا میں ایسے جگہیں بھی ہیں جہاں بچے تو بستے ہیں لیکن مائیں نہیں ۔ ایسے علاقے’’ بغیر ماں کے گاؤں ‘‘کے کہلاتے ہیں ۔

انڈونیشیا میں کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں تقریباً تمام مائیں کام کے سلسلے میں گھر سے دور دوسرے ملکوں میں کام کر رہی ہیں اور انڈونیشیا میں ان علاقوں کو ' بغیر ماں کے گاؤں ' کہا جاتا ہے۔

ایلی سوسی اوتی کی ماں جب انہیں ان کی دادی کے پاس چھوڑ کر گئیں تو وہ صرف گیارہ سال کی تھیں۔ ایلی کے والدین میں علیحدگی ہو چکی ہے اور ان کی ماں مارثیا کو سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کا کام کرنے جانا پڑا۔ 

ایلی کے گاؤں میں یہ خیال عام تھا کہ اپنے بچوں کو بہتر زندگی دینے کے لیے جوان ماؤں کا ملک سے باہر جا کر کام کرنا ضروری ہے۔ یہاں زیادہ تر مرد یا تو کاشتکار ہیں یا مزدور ہیں اوران کی آمدنی بہت کم ہے جبکہ عورتیں ملک سے باہر جا کر گھریلو ملازمہ یا آیا کے طور پر کام میں ان سے کہیں زیادہ کما لیتی ہیں۔

انڈونیشیا کے اس علاقے سے عورتوں نے 80 کی دہائی میں ملک سے باہر جا کر کام کرنا شروع کیا تھا۔ کسی طرح کا قانونی تحفظ نہ ہونے کے سبب یہ لوگ طرح طرح کی زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی لوگ مر گئے، کچھ کے ساتھ ان کے مالکان نے بری طرح مار پیٹ کی اور کچھ کو بغیر اجرت کے گھر واپس بھیج دیا گیا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer