جو لوگ کام نہیں کرسکتے، وہ استعفیٰ دے دیں:جسٹس شیخ عظمت


اسلام آباد(24 نیوز)سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز درختوں کی کٹائی کیس میں اظہار برہمی ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ جو لوگ کام نہیں کرسکتے، وہ استعفیٰ دے دیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز میں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کے دوران سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ جو لوگ کام نہیں کرسکتے، وہ استعفیٰ دے دیں۔

انھوں نے کہا کہ کیا غیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی ، وزیر کیڈ طارق فضل چودھری کی استدعا پر عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔

مارگلہ ہلز میں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ، وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کبھی کسی منتخب امیدوار کو عدالت نہیں بلایا ہم تو منتخب کونسلر بھی ہو تو اس کی عزت کرتے ہیں ۔

عدالتی حکم کے باجود غیرقانونی تعمیرات ختم کیوں نہیں کی گئیں ، ریاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ، پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی۔

وکیل منیر پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس دھرنے کی وجہ سے میسر نہیں تھی اس لیے آپریشن نہیں ہوسکا ، مزاحمت شدید ہوتی ہے پولیس کی مدد کے بغیر آپریشن نہیں کر سکتے ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جہاں پولیس دستیاب تھی وہاں پولیس نے کیا کر لیا ، غیرقانونی تعمیرات دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت کا طارق فضل چوہدری کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کوساس بن کر نہ دیکھا کریں ، ہم تو ہمیشہ غلط آرڈر پاس کرتے ہیں فرشتے تو سی ڈی اے والے ہیں۔

ججز ڈنڈے لے کر مارگلہ ہلز خالی نہیں کروا سکتے ، قانون پر عمل کروانا ہمارا کام ہے ، ناراض نہ ہو کری ، سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں۔

ناکامی ہوئی تو آپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی اور بھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں ، حکومت شاید عدالت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔

طارق فضل چودھری کی عدالت کو ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی ، ایک ہفتے میں عدالت کو ایکشن پلان پیش کریں گے ، عدالت نے طارق فضل چودھری کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت سات دسمبر تک ملتوی کر دی۔