عمران خان کا ساتھی قصور وار


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، جے آئی ٹی رپورٹ میں اعظم سواتی قصور وار قرار دے دیا گیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد تو اعظم سواتی وفاقی وزیر رہنے کے اہل نہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت میں جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ پیش کی، عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی اور ان کے اہل خانہ کو معاملے کا ذمہ دار قرار دیا گیاہے،سواتی فیملی اور ان کے ملازمین نے غلط بیان سے کام لیا، رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر اعظم سواتی کے ساتھ خصوصی برتاوکیا گیا، عدالت نے اعظم سواتی کے وکیل کو جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

اعظم سواتی کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی حکومتی وفد کے ساتھ ویانا میں ہیں ، اعظم سواتی کی 3 دسمبر کو وطن واپسی ہے ، وکیل نے مہلت کی استدعا کی اور کہا کہ یکطرفہ رپورٹ ہے ، اعظم سواتی سے مشورہ کرکے جواب دوں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے سامنے وفاقی وزیر نہیں ایک عام شہری کا کیس ہے ، اعظم سواتی کو کال کرکے وطن واپس بلا لیتے ہیں، اس رپورٹ کے بعد تو وہ وفاقی وزیر رہنے کے اہل نہیں ، چیف جسٹس نے متاثرہ فیملی کو روسٹرم پر بلالیا۔ چیف جسٹس نے متاثرہ خاندان سے کہا کہ ان کی غیرت کے لئے عدالت لڑ رہی ہے متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صلح کرلی۔

عدالت کوئی معافی نہیں دے رہی ،۔ چیف جسٹس نے متاثرہ شخص سے سوال کیا کہ کیا اس کی بیوی اور بیٹی کو جیل نہیں بھیجا گیا۔ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر آئندہ منگل تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔