"ریاست مدینہ کی طرز پر نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی، کامیابی و ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے"


اسلام آباد(24نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 100دن میں عوام کے فائدے کی پالیسی بنانے کا سوچا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ناکام ہونا یا کامیاب ہونا اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں اللہ سے اچھا کرنے کی دعا مانگتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان  کا اسلام آباد جناح کنونشن سنٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ جب ٹی وی دیکھتا ہوں تو ظلم دیکھ کر کہتا ہوں کہ دیکھو بشری کتنا بڑا ظلم ہورہا ہے تو بشری بی بی کہتی ہیں کہ آپ وزیراعظم ہیں۔ انھوں نے 100 روزہ کاکردگی کا کریڈٹ بشری بی بی کے نام کردی ۔ انھوں نے بتایا کہ جب سے حکومت سنبھالی، صرف  ایک چھٹی  کی ہے۔ 

مدینے کی طرز پر پاکستان بنانے کی کوشش:

عمران خان نے کہا کہ مدینے کی ریاست میں جو ہوا حکومت نے وہ کرنے کی کوشش کی۔ دنیا کی تاریخ اٹھا لیں کسی ریاست میں یہ نہ ہوا جو مدینہ میں ہوا۔مدینہ کی ریاست میں غریبوں کیلئے پالیسیاں بنیں، مدینہ کی ریاست میں ٹیکسوں کا پیسہ غریب پر خرچ ہوا۔ پیسے والوں سے  زکوۃ لے کر غریبوں کو دی گئیں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا گیا۔

تعلیمی پالیسی: 

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے تعلیم کا نظام بہتر بنانے کی پالیسی کے بارے میں سوچا، نیا تعلیمی سسٹم لانے کی کوشش کر رہے ہیں، پلان بنایا کہ بچوں کو واپس کیسے سکولوں میں لانا ہے۔کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے، یکساں تعلیم کیلئے پلان لے کر آرہے ہیں تاکہ غریب کے بچے پڑھ کر اوپر آئیں۔

نیب حکومت کے ماتحت نہیں: 

عمران خان نے کہا کہ 22سال سے کرپشن ختم کرنے کا سوچ رہا ہوں، کرپشن سے ادارے تباہ ہوتے ہیں۔ 100روز میں کرپشن سے تباہ اداروں کا حال دیکھا، سابق حکمرانوں نے پیسہ بنانے کیلئے اداروں کو تباہ کیا،  اندازہ نہیں تھا کہ سرکاری اداروں کو اس قدر لوٹا گیا.انھوں نے کہا کہ میرا اشارہ جمہوریت خطرے میں ہے کہنے والوں کی طرف ہے.

انھوں نے نیب سے متعلق کہا کہ بدقسمتی سے نیب ہمارے ماتحت نہیں ایک آزاد ادارہ ہے،  نیب جو کر رہا ہے، ہم اس کے ذمہ دار نہیں، نیب کو تنقید برداشت کرنی چاہئے، نیب اس سے بہت بہتر کام کرسکتا ہے. نیب کو ٹھیک کرنے کا وعدہ پورا نہیں کرسکے، نیب کو فوکس کرنا ہوگا، کنوکشن ریٹ صرف7فیصد تک ہے،نیب کا سارا انحصار پلی بارگین پر ہے. 

کرپشن کیخلاف اقدامات:

ہمارے پاس قرض واپس کرنے کے پیسے نہیں، 26ملکوں سے کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا معاہدہ کیا،26ملکوں میں پاکستانیوں کا 11 بلین ڈالر پڑا ہے.انھوں نے کہا کہ سابق حکمران اقامہ زدہ تھے،  دوسرے ممالک اقامہ والوں کی تفصیلات نہیں دیتے۔جب وزیراقامہ لے کر کرپشن کریں تو منی لانڈرنگ کیسے رکے گی۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت نے 375ارب کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں۔ 

قبضہ مافیا کیخلاف ایکشن:

وزیراعظم نے کہا کہ قبضہ مافیا کیخلاف ایکشن لیا۔ قبضہ مافیا سے ساڑھے 3 سو ارب کی زمین واگزار کرائی۔  پنجاب سے 88 ہزار ایکڑ قبضہ مافیا سے واپس لی ہے جس کا تخمینہ 150 سے 200 ارب روپے کا  لگایا گیا ہے۔

بجلی چوروں کیخلاف کارروائی:

انھوں نے کہا کہ بجلی چوری روکنے کیلئے بجلی مہنگی کی، ہر سال 85 ارب بجلی کی چوری کی گئی۔اب تک 6 ہزار سے زائد بجلی چوروں کیخلاف ایف آئی آرز کاٹی جاچکی ہیں۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریفیں، پناگاہوں کا قیام:

وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق انھوں نے کہ یہ بہت سادہ آدمی ہیں۔ کوئی بڑی ٹوپی لمبے بوٹ نہیں پہنتا۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو داد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لاہور میں پانچ جگہوں پر لاوارثوں کیلئے پناہ گاہیں بنائیں۔ اس کے بعد راولپنڈی میں بھی کام کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں بھی پناہ گاہوں کیلئے جگہ ڈھونڈ لی ہے۔

کسانوں کیلئے پروگرام: 

وزیراعظم نے کہا کہ نچلے طبقے کیلئے 5 ارب روپے کا پروگرام لارہے ہیں، چھوٹے کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈیز دینگے۔کسانوں کو بچھڑنے پالنے کیلئے پیسہ دینگے، 90دن پیسہ ہی نہیں تھا، کیا کرتے، سیم زدہ علاقوں میں فش فارمنگ کرینگے، سیم زدہ علاقوں میں جھینگے پالے جاسکتے ہیں، دیہاتی خواتین کو دیسی مرغیاں پالنے پر لگائیں گے، میری تمام کوششیں غریب کو اوپر اٹھانے کیلئے ہیں، قیمتیں کم کرنے کیلئے آڑھتیوں میں اضافہ کرینگے، وزیراعظم لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ منڈی بنائیں گے۔

مزید اہم خبریں جانئے: https://www.youtube.com/channel/UCcmpeVbSSQlZRvHfdC-CRwg/featured

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔