انسانی خوبصورتی بڑھانے والی مشینیں

انسانی خوبصورتی بڑھانے والی مشینیں


لاہور(ویب ڈیسک)رنگ گورا کرنیوالی کریمیں،بیوٹی سوپ،میک اپ کا سامان ۔اب سب ہوئے پرانے،مارکیٹ میں ایسی مشینیں آگئیں ہیں جو اپ کی جلد کے مطابق نکھار پیدا کرتی ہیں،آپ کی شخصیت کے مطابق خوبصورت بناتی ہیں۔

بیوٹی برانڈز اپنے صارفین کو زبردست مقابلے والی مارکیٹ میں متوجہ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لے کر آگمینٹڈ ریئلیٹی تک سب کچھ استعال کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ نت نئے طریقے کام بھی کرتے ہیں یا نہیں۔گذشتہ سال جب لورئیل نے یہ کہا کہ وہ دنیا میں اول نمبر کی بیوٹی فرم نہیں بلکہ ’اول نمبر کی ٹیک کمپنی‘ رہنا چاہتی ہے تو اسی وقت یہ واضح ہو گیا تھا کہ اس صنعت میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے ایک ماہر کہتے ہیں کہ خوبصورتی سے متعلق خواتین کے خدشات 30 سے 40 سال سے ایک جیسے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی نے صارفین کو زیادہ مطالبہ کرنے والا بنا دیا ہے۔اب وہ زیادہ ذاتی نوعیت کی اور بالکل درست مصنوعات چاہتے ہیں اور ہمیں ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔50 فیصد خواتین اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ انھیں اپنے چہرے کے لیے درست رنگ کا فاؤنڈیشن نہیں ملتا اور گہرے رنگ کی خواتین چاہتی ہیں کہ انھیں زیادہ ورائٹی ملے۔

لورئیل کی ذیلی کمپنی لینکام نے اس مسئلے کا حل لی ٹینٹ پرٹیکیولیر نامی ایک کسٹم میڈ فاؤنڈیشن مشین کی صورت میں نکالا ہے جو آپ کی جلد کے عین مطابق رنگ ڈھونڈنے کا وعدہ کرتی ہے۔یہ مشینیں برطانیہ میں سلفریجز اور ہیروڈز کے سٹورز پر دستیاب ہیں۔ لینکام کے کنسلٹنٹس پہلے ایک کلریمیٹر کے ذریعے آپ کی جلد کا رنگ جانچتے ہیں جو ایک طرح کا ڈیجیٹل سکینر ہوتا ہے۔

پھر ان نتائج کو ایک کمپیوٹر میں ڈالا جاتا ہے جس میں خصوصی طور پر بنائے گئے ایک الگورتھم کے ذریعے 20 ہزار مختلف رنگوں میں سے انتخاب کیا جاتا ہے۔

آخر میں اس کمپیوٹر کے نتائج ایک ایسی مشین کو بھیجے جاتے ہیں جو فاؤنڈیشن کو آپ کے لیے وہیں، اسی دکان میں مکس کرتی ہے۔مارکیٹ پر تحقیق کرنے والی فرم مِنٹیل کے مطابق ذاتی نوعیت کی کاسمیٹکس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ تقریباً آدھے سے زیادہ صارفین چاہتے ہیں کہ ان کی بیوٹی پروڈکٹ خاص طور پر ان کے لیے بنائی گئی ہو اور ایک تہائی صارفین کا ماننا ہے کہ ایسی مصنوعات بہتر نتائج دیتی ہیں۔

مگر 85 پاؤنڈ قیمت میں 30 ملی لیٹر کی لی ٹینٹ پرٹیکیولیر سستی نہیں۔ اور کچھ لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کاسمیٹکس کی قیمیتیں ہر کسی کی پہنچ میں نہیں ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer