سابق صدر آصف زرداری کی تکلیف میں اضافہ

سابق صدر آصف زرداری کی تکلیف میں اضافہ


اسلام آباد(بابر شہزاد تُرک)سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری 35 روز سے پمز ہسپتال کے کارڈک سینٹر میں زیرعلاج، سابق صدر کی طبعیت بدستور ناساز، دل کی تکلیف میں اضافہ، انجیوگرافی تاحال نہ ہوسکی۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو پمز ہسپتال میں داخل ہوئے 35 روز ہو گئے، موزوں طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور قیدِ تنہائی نے دل کا عارضہ بڑھا دیا۔ میڈیکل بورڈ سے وابستہ ذرائع بتاتے ہیں کہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بگڑتی صحت مکمل طبی سہولیات کی متقاضی ہے، دل کی دھڑکن کا اکثر بڑھنا و بے ترتیب ہو جانا، دل کے عارضہ میں مبتلا مریض کو قیدِ تنہائی میں رکھنا انتہائی تشویشناک امر ہے۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بگڑتی صحت مکمل طبی سہولیات کی متقاضی ہے، دل کی دھڑکن کا اکثر بڑھنا و بے ترتیب ہوجانا سخت خطرے کی علامت ہے، ذرائع میڈیکل بورڈ کے مطابق گزشتہ کئی روز سے سابق صدر کے دل کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ تاحال دِل کے اہم ترین ٹیسٹ تک نہ ہو سکے، آصف علی زرادری کئی روز سے ڈاکٹرز کو دل کی تکلیف کی شکایت کر رہے ہیں، عارضہ قلب کے باعث سابق صدر کے وزن میں تیزی سے کمی خطرے کی گھنٹی ہے، آصف علی زرداری کے ذاتی معالج کو بھی تاحال ان تک رسائی نہ مل سکی۔

ذاتی معالج اور پرائیویٹ میڈیکل بورڈ کی عدم تشکیل ماورائے قانون امر ہے، زیرِ حراست شخص کو مکمل طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، ماہرینِ قانون کے مطابق دورانِ حراست طبی سہولیات کی فراہمی متعلقہ حکام اور ادارے کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے جسے حیرت انگیز طور پر محسوس نہیں کیا جا رہا اور غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer