سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روک دیا

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روک دیا


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے احکامات معطل کردیے۔سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کے زبانی احکامات پر آئی جی کا تبادلہ ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوگی، اداروں کی خود مختاری چاہتےہیں۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےآئی جی اسلام آبادجان محمد کےتبادلے کا نوٹس لیا ۔ سیکریٹری داخلہ اورسیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن عدالت میں پیش ہوئے۔سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نےانکشاف کیا کہ آئی جی اسلام آباد کے تبادلےکامعاملہ چل رہا تھا، ان کا تبادلہ وزیراعظم کے زبانی حکم پر ہوا، وزیراعظم ہاؤس کےمطابق آئی جی کا ردعمل صحیح نہیں تھا.

چیف جسٹس پاکستان نے کہا لگتا ہے اعظم سواتی کے بیٹے کی لڑائی پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا ۔ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ آگئے ہیں نیا پاکستان بنانے؟  عدالت اس معاملے پر بیان حلفی بھی طلب کرے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ تبادلے میں عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ عام طور پر تبادلے کی سمری بھیجی جاتی ہے۔  ایسے نہیں ہوتا ایک فون کرکے آئی جی کا تبادلہ کر دیا جائے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اگر آئی جی کی غلطی تھی تو ان کو شوکاز نوٹس جاری کرکے فارغ کرتے تبادلہ کیوں کیا ۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے آپ اپنی مرضی کا آدمی لانا چاہتے تھے۔ عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے بدھ تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔