عثمان بُزدارکے ووٹر انکے دیدار کو ترس گئے

عثمان بُزدارکے ووٹر انکے دیدار کو ترس گئے


 لاہور( 24 نیوز ) 70دن گزرگئے،تبدیلی کہاں ہے؟ روہی کے باسی عثمان بُزدار کی راہ تک رہے ہیں جبکہ انہوں نے ایک باربھی اپنے ووٹروں کو دیدارنہیں کرایا،  جنوبی پنجاب کاانتظارطویل ہونے لگا، ووٹروزیراعلیٰ سے مل کر مسائل بتانا چاہتے ہیں۔

   وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جو کہ تبدیلی کااستعارہ تھے، وہ بھی تختِ لاہورکے ہو کر رہ گئے، جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے تونسہ شریف سے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنے ستر دن ہوگئے۔ وہ جنوبی پنجاب کے غریب عوام کی امید تھے لیکن یہ امید ابھی تک اپنے علاقے میں برنہیں آئی۔ تبدیلی کے منتظرلوگ ان سے مل کر انہیں مسائل بتانا چاہتے ہیں لیکن عثمان بزدارکو ستر دن بعد بھی اپنے ووٹروں کی یاد نہ آئی، روہی کے باسی ان کی راہ تک رہے ہیں مگر وہ دور دور تک نظرنہیں آرہے۔

واضح رہے کہ 17 اگست 2018 کو عمران خان نے انہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کے لئے پی ٹی آئی کا امیدوار نامزد کیا تھا،ان کے بارے عمران خان نے کہا تھا کہ صرف ایک ہی ایم پی اے ہے،  جس کے اپنے گھر میں بھی بجلی نہیں ہے، وہ جانتا ہے کہ غریب کیسے اپنا گزر بسر کر تے ہیں۔19 اگست 2018 کوعثمان بزدار  پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔