کیساہوگا نیا بلدیاتی نظام؟


لاہور( 24نیوز )کیساہوگا نیا بلدیاتی نظام ؟نئی حکومت نے تیاری مکمل کرلی،لاہور سمیت 8 بڑے شہروں کو کارپوریشن گورنمنٹ کا درجہ حاصل ہو گا، اکتوبر میں نیا نظام نافذ ہوگا،جنوری کے پہلے ہفتہ یا مارچ تک بلدیاتی الیکشن ہوں گے

تحریک انصاف نے بالآخرپرانے بلدیاتی نظام کو جھنڈی کرادی،نیا نظام لانےکی تیاری مکمل کرلی، اکتوبرکے پہلے ہفتہ میں گورنر پنجاب آرڈیننس کے ذریعے نافذ کریں گے،نفاذ کے تین ماہ میں الیکشن ہوں گے۔

پرائمری ہیلتھ سمیت 24 محکمہ جات ضلعی حکومت کے پاس چلے جائیں گے۔یونین کونسل ناظم سمیت 11 کونسلرز پر مشتمل ہو گی۔ نائب ناظم کی سیٹ ختم ہوجائے گی۔پانچ کونسلر براہ راست منتخب ہوں گے۔ جبکہ 5 مخصوص سیٹیں ہوں گی۔

نئے نظام میں ٹاون کمیٹی ،ٹاون اور تحصیل نہیں ہوں گے۔لاہور سمیت 8 بڑے شہروں کو کارپوریشن گورنمنٹ کا درجہ حاصل ہو گا۔ لارڈ میئرہوگا،ان 8 بڑے شہروں میں ٹاون یا تحصیل سطح پر ناظم کی بجائے نائب ناظم یا ڈپٹی میئرکا الیکشن ہوگا،تحصیل کونسل کے نائب ناظمین، ڈپٹی میئر بھی براہ راست عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کی مانیٹرنگ کیلئے لوکل کونسلیں تشکیل دی جائیں گی،یونین کونسل ویلج کونسل طرزپرہوگی۔

بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد ایک ہفتہ کے اندراندر بلدیاتی الیکشن شیڈول کا اعلان ہوگا،تین ماہ کے اندر اندر الیکشن ہوں گے۔ جنوری کے پہلے ہفتہ یا مارچ تک بلدیاتی الیکشن ہوں گے۔

سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر جمہوری نظام میں ایک لاکھ سے زائد منتخب ارکان با اختیار ہو کر اس کا حصہ بن جائیں تو پاکستان میں کبھی جمہوریت اور جمہوری نظام پر آنچ نہ آئے، اس لئے اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے یقیناً وہ اچھا اور فعال بلدیاتی نظام چاہتے ہیں لیکن یہ کام عجلت میں کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی درکار ہے۔

یہ نظام گھنٹوں میں وجود میں آنے والا نہیں، اس کیلئے دنوں کی عرق ریزی کی ضرورت ہے اور اس نظام کی قانونی حیثیت کیلئے وہ تمام آپشن بروئے کار لائے جائیں جو اس کیلئے ضروری ہیں، اگر تحریک انصاف کی حکومت پنجاب میں ایک اچھا، مو¿ثر اور مضبوط بلدیاتی نظام لانے میں کامیاب رہی تو جمہوریت کی ایک بڑی خدمت کرنے کے ساتھ خود آنے والے حالات اور انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو یقینی بنانے کا باعث ہو گا۔