ن لیگی حکومت نے سرکاری خزانے کو کتنا ٹیکہ لگایا؟


 لاہور(   24نیوز   ) ن لیگ  کے دور میں بڑے صوبے کی بڑی بے ضابطگیاں،  56 پبلک لمیٹڈ سرکاری کمپنیوں میں کھربوں کی مالی بے ضابطگیاں،کس کمپنی میں کتنی مالی بے ضابطگی ہوئی24نیوز  نے کھوج لگا لیا۔

آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ کی سمری کے مطابق سرکاری کمپنیوں میں دو کھرب چودہ ارب اسی کروڑ اٹھانوے لاکھ اور پچاس ہزار کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، قائد اعظم سولر پاور کمپنی اٹھاون ارب اڑتالیس کروڑ بیاسی لاکھ پچیس ہزار کی بے ضابطگی کے ساتھ سر فہرست ہے، قائد اعظم تھرمل پاور کمپنی پندرہ ارب ننانوے کروڑ چالیس لاکھ جبکہ پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی میں گیارہ ارب تیس کروڑ نوے لاکھ انسٹھ ہزار کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، اربن سیکٹر پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں تین ارب سات کروڑ ایک لاکھ پچہتر ہزار، صاف پانی کمپنیوں میں تین ارب اٹھاون کروڑ ستائیس لاکھ چھیتر ہزارروپے جبکہ انجینیئرنگ کنسلٹنسی سروس پنجاب دو راب میں انتیس کروڑ نونانوے لاکھ چھیانوے ہزار کی بے ضابطگی سامنے آئی۔

لاہور نالج پارک کمپنی میں انتیس کروڑ اٹھارہ لاکھ نناوے ہزار، پنجاب بائیو انرجی کمپنی میں ایک ارب چوراسی کروڑ چھتیس لاکھ بارہ ہزار جبکہ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ میں ایک ارب چھتیس کروڑ بارہ لاکھ روپےغبن کیےگئے, پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ اڑسٹھ کروڑ چودہ لاکھ ، فیصل آباد پارکنگ کمپنی چون کروڑ پچپن لاکھ ، انلینڈ واٹر ٹرانسپورٹ ڈویلپمنٹ کمپنی میں چون کروڑ انتیس لاکھ جبکہ پاکستان منرل کمپنی میں تئیس کروڑ چونتیس لاکھ بائیس ہزار خورد برد کیے گئے،  پنجاب ہیلتھ انیشیوٹیو مینجمنٹ کمپنی اٹھارہ کروڑ چوہتر لاکھ نو ہزار ، پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی چار کروڑ سترہ لاکھ اور پنجاب ہاؤسنگ اربن کمپنی میں چار کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کا غبن کیاگیا،پنجاب پاپولیشن انوویٹیو فنڈ دوکروڑ ستائیس لاکھ،ٹوریزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ میں دورکروڑ چھبیس لاکھ جبکہ پنجاب فنڈ برائے بحالی معذوراں میں دوکروڑ بائیس لاکھ کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنیوں کے قوانین، اور مراعات کی منظوری محکمہ سورسز اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے نہیں لی گئی،  پنجاب پروکیورمنٹ رولز کی ایک سو پانچ کیسز میں خلاف ورزی کی گئی،غیرقانونی ٹھیکوں کی مد میں ایک سو چون کیسز کی نشاندہی کی گئی، مذکورہ رپورٹ سپریم کورٹ سمیت متعلقہ اداروں کو بھجوا دی گئی ہے جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں رپورٹ کی کاپیاں بھی پیش کی جائیں گی۔