سی ڈی اے کا وادی سندھ کی تہذیب پر حملہ

سی ڈی اے کا وادی سندھ کی تہذیب پر حملہ


اسلام آباد (24 نیوز)سی ڈی اے نے وادی سندھ کی تہذیب کو محفوظ کرنے کی بجائے گٹروں کے ڈھکنوں پر لگا دیا، موہنجو داڑو کی اہم علامات کو اسلام آباد کے گٹروں کے ڈھکنوں پر لگا کر قدیم ثقافتی ورثے کی بے حرمتی کردی گئی ۔

موہنجو داڑو اور ہڑپہ کو وادی سندھ کا اہم تہذیبی ورثہ سمجھا جاتا ہے، موہنجو داڑو سے ملنے والی اہم علامات میں سے ایک ، یک سنگھا ہے، جو اس دور میں اہم سرکاری امور کی انجام دہی میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یونیسکو اس علامت کو ثقافتی ورثہ قرار دے چکا ہے، جب کہ بین الاقوامی ادارے اس پر مزید تحقیات کررہے ہیں لیکن سی ڈی اے نے اس تہذیبی ورثے کو گٹروں کے ڈھکنوں پر لگا دیا ہے۔

 یاد رہے موہنجو داڑو کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی ہے ، یک سنگھے کی علامت اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی سندھ کے لوگ اس دور میں بھی انتہائی تہذیب یافتہ تھے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے نے بغیر سوچے سمجھے ایک قدیم تہذیبی ورثے کو گٹروں کے ڈھکنوں پر لگا کر مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیا ہے، شہریوں نے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ  بھی کردیا ہے۔