پنجاب میں زندگیاں بچانے والے جلاد بن گئے،پانچویں روز بھی ہڑتال


لاہور ( 24نیوز ) پنجاب میں زندگیاں بچانے والے جلاد بن گئے،ادویات بیچنے والے دکانیں بند کرکے سڑکوں پر آگئے،پانچویں روز بھی احتجاج جاری،ہسپتالوں میں ادویات نہ ملنے سے مریض مرنے لگے۔

پنجاب ڈرگ ایکٹ 2017 کے خلاف لاہور کے میڈیکل سٹورز مالکان کی ہڑتال جاری ہے۔ میڈیکل سٹورز مالکان کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کے باعث مریضوں کو ادویات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پنجاب ڈرگ ایکٹ 2017 میں ترمیم کے خلاف پنجاب کے مختلف شہروں کی طرح لاہور میں بھی میڈیکل سٹورز مالکان کا مکمل شٹر ڈاﺅن اور ہڑتال جاری ہے۔ دوائیں نہ ملنے کے باعث مریض اور لواحقین کو پریشانی کا سامنا کرنا ہے۔

میڈیکل سٹورز مالکان کا مطالبہ ہے کہ ڈرگ ایکٹ کالا قانون ہے اور اسے فوری واپس لیا جائے، میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریوں پر بھی چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے اسٹورز بند رکھیں گے۔

نئے ایکٹ کے تحت جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف سزاو¿ں میں اضافہ کیا گیا ہے اور بغیر لائسنس ادویات بنانے یا فروخت کرنے والوں کو 3 سے 10 سال تک قید کی سزا ہوگی جب کہ 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ ڈرگ ایکٹ 2017 کے تحت میڈیکل سٹور میں ہر وقت ایک ماہر فارماسسٹ کی موجود گی لازمی قرار دی گئی ہے اور میڈیکل سٹور میں گندگی پر بھی سزا ہو گی۔