اس ماہ رمضان میں یہ منفرد نیکیاں ضرور کریں

اس ماہ رمضان میں یہ منفرد نیکیاں ضرور کریں


رمضان ایسا پیارا مہینہ ہے جس کے استقبال کے لئے آسمان پر بھی تیاریاں ہوتی ہیں اور جنت سجائی جاتی ہے۔ ماہ رمضان انسانی روح کیلئے بہار کی حیثیت رکھتا ہے۔  کتنے خوش قسمت لوگ ہیں ہم جنھیں ایک بار پھر  برکت و فضیلت والا مہینہ ملنے والا ہے۔ورنہ کتنے ہم میں سے اس بہار کو دیکھے بغیر دنیا سے چلے گئے۔اب ہمارا یہ فرض ہے کہ اس ماہ رمضان میں ایسے اچھے اچھے کام کریں کہ ہم سے ہمارا اللہ خوش ہوجائے اور جنت کا ٹکٹ اسی ماہ رمضان میں کٹا لیں۔

اس بابرکت مہینے میں سب سے پہلے تو یہ تہیہ کرلیں کہ پانچ وقت کی نماز  اور نماز تراویح ضرور پڑھیں گے اور ایک بار قرآن پاک کو ضرور دہرائیں گے۔ اس کے علاوہ نوافل پڑھیں اور اسلامی کتب کا مطالعہ کریں۔ غیبت ، چغل خوری، گالی گلوچ، برے خیالات سے بچیں اور صدقہ خیرات کرتے رہیں۔یہ تو ہیں وہ اعمال جو آپ عموما ہر سال کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے لیکن اس ماہ رمضان ذرا منفرد نیکیاں   اور اعمال کرنے کی کوشش کریں۔

درخت لگائیں: 

جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت ہمارے وطن عزیز میں درختوں کی بہت زیادہ کمی ہے، البتہ ہماری موجودہ  حکومت درخت لگانے کیلئے کافی پر عزم ہے لیکن ہمیں انفرادی طور پر پودے لگانے چاہیں تاکہ یہ سرزمین سر سبز و شاداب ہوسکے اور ہمارا ماحول خوشگوار اور آب و ہوا  پاک صاف رہے۔ ان درختوں سے لوگوں  کو چھاؤں اور پھل مہیا ہوسکیں گے۔ یوں اس عمل سے آپ لوگوں سے ڈھیر ساری دعائیں اورنیک خواہشات حاصل کر سکتے ہیں۔  

کسی مدرسے میں بچوں کی سحری یا افطاری کروائیں:

افطاری کا مطلب یہ ہے کہ کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔افطاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا تو اس شخص کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا"۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو محروم رکھا جاتا ہے۔ اس رمضان ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان میں ان بچوں کا ضرور خیال رکھیں اور ان کیلئے سحری اور افطاری کا اہتمام کریں۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ" افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا"۔ آپ یہ سوچیں کہ مدرسے میں افطاری کرانے سے جب یہ پھول جیسے بچے خوش ہوں گے اور آپ کو دعائیں ملیں گی تو آپ کو کتنا نفع پہنچے گا۔مدرسے کے علاوہ بھی آپ ان جگہوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جہاں غربت کی وجہ سے لوگ سحری افطاری کا اہتمام نہیں کر سکتے۔ کوشش کریں کہ صاحب استطاعت رشتہ داروں، دوستوں کی بڑے بڑے ریستوران میں دعوتیں کرنے کی بجائے آپ اس مقدس مہینے میں غریبوں پر زیادہ خرچ کریں۔

ضرورت مند کی مدد کریں:

ماہ رمضان میں ہر کام کا ثواب عام مہینوں سے زیادہ ملتا ہے۔ اس ماہ میں کوشش کریں کہ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں۔ اگر کوئی بیمار ہے اور علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کا علاج کروائیں۔ کوئی مالی طور پر کمزور ہے اور بیٹی کی شادی نہیں کر پارہا تو اس کی معاونت کریں۔ کسی غریب بچے کی سکول فیس کا ذمہ خود لے لیں۔ کسی کا مکان مرمت کروانے والا ہے تو  اس کی مدد کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسی ہیں جن کے کرنے سے آپ ثواب کےساتھ ساتھ ہزاروں دعائیں بھی بٹورسکتے ہیں۔ 

بے روزگار کا کاروبارشروع کروائیں:

اگر کوئی مالی طور پر کمزور ہے اور اس کے گھر کا سرکل نہیں چل پا رہا تو  اس کی مالی معاونت کریں۔ زکواۃ ، صدقات کی رقم میں سے ہی اسے کوئی اچھا سا کاروبار شروع کروا دیں تاکہ کسی ایک خاندان کا تو اچھے سے گزر بسر ہوسکے۔ اکثر لوگ اپنی زکوٰۃ کو بہت سارے لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جس سے کچھ دن تو ان کا گزارا ہو جاتا ہے لیکن کچھ دن بعد پھر انھیں ہاتھ پھیلانا پڑ جاتا ہے۔

آخر میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ ایک دفعہ ان نادار لوگوں  کو اپنی جگہ رکھ کر سوچیں  کہ جب میں بھوکا  ہوتا ہوں ، مجبور ہوتا ہوں تو کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یقین جانیں اگر ہم میں سے ہر شخص ایک دوسرے کی مدد کرنا شروع کر دے تو افلاس اور غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔