سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو طلب کرلیا


24نیوز : چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب میگا پراجیکٹس کے ٹھیکوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شام 4 بجے طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے ایم ڈی میٹرو پراجیکٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سبطین فیصل صاحب آپ کے پراجیکٹس کن مسائل کا شکار ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ اورنج لائن پراجیکٹ چین کے قرضے پر چل رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ چین کے دیے گئے قرضے سے کتنا کام ہوچکا اور کنسلٹنٹ کون ہے جس پر سبطین فیصل نے بتایا کہ نیسپاک اور سی ای سی کنسلٹنٹ ہیں اور 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ دونوں کمپنیاں چین کی ہیں اور پراجیکٹ مکمل ہونے میں ساڑھے 8 ماہ کا کام رہتا ہے۔

ایم ڈی میٹرو پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ 24 ملین ڈالر کنسلٹنسی چارجز ہیں جس میں سے 18.3 ملین ادا ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں منصوبے کی بروقت تکمیل نا ہونے پرتحفظات ہیں اور  غیر معیاری کام کی شکایات ہیں جس پر سبطین فیصل نے کہا کہ ایکنک کی منظوری کے بعد ایل ڈی اے کو رقم ملنی ہے۔

زیڈ کے بی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 30 اکتوبر کی دی گئی تاریخ میں تو پراجیکٹ مکمل نہیں ہوگا۔ نیسپاک مزید کام کرنے کو تیار نہیں، اس وجہ سے فنڈز رک جائیں گے۔وکیل نعیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نیسپاک اور چائنیز کمپنی کو کام کرنے کا حکم دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وزیراعلی عثمان بزدار اور دوسرے ذمہ داروں کو کل بلوا لیتے ہیں جس پر ایم ڈی میٹرو پراجیکٹ سبطین فیصل نے کہا کہ انہیں بلانے کی ضرورت نہیں، ہم مل بیٹھ کر معاملہ طے کرلیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سارے شراکت دار سپریم کورٹ میں میٹنگ کرکے 2 بجے تک آگاہ کریں۔ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شام 4 بجے طلب کرتے ہوئے سماعت دن 2 بجے تک ملتوی کردی۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito