نواز شریف کی عدالت پیشی،جیل حکام نے ہاتھ کھڑے کردئیے

نواز شریف کی عدالت پیشی،جیل حکام نے ہاتھ کھڑے کردئیے


اسلام آباد( 24نیوز ) نواز شریف کی عدالت پیشی،جیل حکام نے ہاتھ کھڑے کردئیے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت کی جس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا،میاں نوازشریف کی عدالت آمد پر لیگی رہنماوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں آگئی جس پر جج ارشد ملک نے سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرکے کچھ افرادکو باہر بھجوادیا۔
سماعت کے آغاز پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کا آغاز کیا تو جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے شماریات کی اصلاحات سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔واجد ضیاء نے عدالت سے مکالمہ کیا کہ خواجہ صاحب مکمل طور پرتکنیکی ٹرمز سے متعلق سوالات کررہے ہیں، جنرل نالج اور سمجھ کے مطابق بتا سکتا ہوں، غلطی کی گنجائش ہوسکتی ہے۔


خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جےآئی ٹی نے سعودی حکام سے ایچ ایم ای کے آڈٹ شدہ اکاونٹس کی فنانشل اسٹیٹمنٹ مانگی تھی؟ اس پر واجد ضیاءنے بتایا کہ اس سوال کا جواب دینے کیلئے مجھے ریکارڈ دیکھنا پڑے گا، سعودی حکام کو لکھا گیا ایم ایل اے والیم ٹین میں موجود ہے، والیم 10سربمہرہے اور اس وقت میرے پاس دستیاب نہیں۔
عدالت نے واجد ضیاء اور پراسیکیوٹر کی درخواست پر والیم ٹین کا متعلقہ حصہ لانے کی ہدایت کی،خواجہ حارث نے کہا کہ شریک ملزمان کی جمع کرائی گئی دستاویزات بھی ہمارے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ جب یہ دستاویزات آپ نے نہیں دیں تو پھر ان پر جرح کیوں کررہے ہیں۔


العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد عدالت نے نوازشریف کو واپس اڈیالہ جیل بھیجنے کی ہدایت دے دی جب کہ اس موقع پر جیل حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کل نوازشریف کو پیش کرنے سے معذرت کرلی۔جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ کل دھرنے اور ریلیوں کا امکان ہے لہٰذا کل نوازشریف کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پیش نہیں کرسکتے۔

ویڈیو دیکھیں:

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف سمیت اہم لیگی رہنما بھی آج اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرینگے،ملاقات میں صدارتی انتخاب،سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔