بنگلادیش، عام انتخابات کے دوران جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک

بنگلادیش، عام انتخابات کے دوران جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک


ڈھاکہ(24نیوز)بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے سخت سیکیورٹی میں ووٹنگ ہوئی ۔ پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 12 افرد سے بڑھ گئی ۔

بنگلادیش عوامی لیگ کی شیخ حسینہ واجد چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جن کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی زیر قیادت قائم اتحاد سے سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جس کے بعد مختلف علاقوں میں عوامی لیگ اور اپوزیشن اتحاد کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔پولیس کے مطابق اپوزیشن اور حکمران جماعت کے کارکنوں میں جھڑپوں کے دوران 8 افراد مارے گئے جب کہ تین افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے اور اپوزیشن کارکنوں کے حملے میں ایک اہلکار بھی مارا گیا۔

بنگلہ دیش کی 300 نشستوں پر مشتمل پارلیمان کے لیے 10 کروڑ سے زئد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹنگ کے لیے ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔ عام انتخابات کے لیے سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں جس کے لیے 6 لاکھ اہلکار تعینات کئے گئے۔

عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد کو چوتھی بار وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے 151 سیٹیں درکار ہیں۔الیکشن کے اعلان کے بعد سے بنگلادیش میں اپوزیشن کے 17 رہنماؤں کوعدالتوں کی جانب سے نااہل قرار دیا جا چکا ہے جب کہ 15 ہزار سے زائد کارکن بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔حسینہ واجدکی حریف اوربی این پی کی لیڈر خالدہ ضیا کرپشن کے الزام میں پہلے ہی 17 برس جیل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔