فلیگ شپ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری

فلیگ شپ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری


اسلام آباد( 24نیوز ) احتساب عدالت نے العزیزیہ کے بعد فلیگ شپ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ 80 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے  جس کے مطابق نیب فلیگ شپ ریفرنس سے مقدمہ ثابت نہیں کرسکا ، نیب کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات نامکمل ہیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 24 دسمبر کو فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کا زبانی فیصلہ سنایا تھا، تحریری فیصلے میں املا کی غلطیوں کی درستگی کیلئے جج ارشد ملک عدالتی چھٹیوں کے باوجود بھی عملے سمیت حاضر رہے، گزشتہ جمعہ کو رات گئے فلیگ شپ کا 80 صفحات ہر مشتمل فیصلہ مکمل کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق استغاثہ یعنی نیب پراسیکیوشن نوازشریف کے خلاف 16 غیر قانونی آف شور کمپنیوں کا الزام ثابت نہیں کرسکی اور نہ ہی عائد الزامات کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد یا دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔

گزشتہ سال شروع ہونےوالے دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کے خلاف مجموعی طور پر 183 سماعتیں جبکہ العزیزیہ میں 22 اور فلیگ شپ میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔ سابق وزیراعظم 130 بار احتساب عدالت پیش ہوئے، دونوں ریفرنسز میں وہ 70 بار جج محمد بشیر جبکہ 60 بار ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔ ایون فیلڈ میں سزا کے بعد نوازشریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا، مریم نواز اپنے والد کے ساتھ 70 میں سے 65 پیشیوں پر عدالت آئیں، نواز شریف 49 مرتبہ حاضری سے استثنا لینے میں بھی کامیاب ہوئے۔

استغاثہ کا الزام تھا کہ سابق وزیراعظم العزیزیہ اور فلیگ شپ کمپنیوں کے بے نامی دار مالک ہیں اور انہوں نے دونوں بیٹیوں کے نام پر جائیدادیں بنائیں جبکہ نواز شریف کے وکلاء کا موقف تھا کہ استغاثہ کے پاس ان الزامات کے ٹھوس شواہد ریکارڈ پر موجود نہیں۔ نیب پراسیکیوشن کا یہ بھی الزام تھا کہ ہل میٹل کا 80 فیصد منافع نواز شریف کو بھیجا گیا وہ بھی اس وقت جب کمپنی نقصان میں تھی تو پھر اتنا منافع کیسے۔ جبکہ نواز شریف کے وکلاء کا موقف رہا کہ بیٹے نے تحفے کے طور پر رقم بھیجی تو کون سا عجوبہ ہوگیا، العزیزیہ والد مرحوم نے قائم کی اور حسین نواز نے انتظامات سنبھالے، حسن نواز کمپنی بنا کر فلیٹس خریدتے، ری فرنش کر کے فروخت کر دیتے تھے اور یہی ان کا کاروبار ہے، سیاست میں آنے کے بعد خاندانی کاروبار سے کوئی تعلق نہیں رہا، خواجہ حارث نے کہا استغاثہ نے شریک ملزمان کا جرم ثابت کرنے میں زیادہ محنت کی، نواز شریف کا نام صرف کیپٹل ایف زیڈ ای میں ہے وہ بھی بطور مالک نہیں،  نواز شریف نے تنخواہ وصول نہیں کی، سپریم کورٹ نے ان کی قابل وصول تنخواہ کو اثاثہ قرار دے کر نااہل کیا۔

فلیگ شپ تحریری فیصلہ تو جمعے کی رات مکمل کیا گیا تاہم اس کی مصدقہ کاپیاں پیر کو وکلاء صفائی اور نیب پراسیکیوشن کے حوالے ہوں گی۔ فلیگ شپ کا تحریری فیصلہ حاصل کرنے کے فوری بعد نوازشریف کے وکلاء کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے جبکہ نیب پراسیکیوشن ٹیم بھی العزیزیہ میں سزا کی کمی جبکہ فلیگ شپ میں بریت کے خلاف اپیل عدالت میں اپیل دائر کرنے کیلئے مکمل تیار ہے ۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔